IQNA

18:35 - February 03, 2020
خبر کا کوڈ: 3507189
بین الاقوامی گروپ- اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے امن منصوبے کو مسترد کردیا۔ فلسطینی وزیرخارجہ نے اسلامی ممالک سے عدم تعاون کا مطالبہ کیا۔

ایکنا نیوز- معا نیوز کے مطابق او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘اسرائیل اور امریکا کے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں، یہ منصوبہ فلسطینیوں کے قانونی حقوق اور خواہشات کے مطابق نہیں ہے’۔

ٹرمپ کے منصوبے کے حوالے سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ منصوبہ امن عمل کے شرائط و ضوابط کے برعکس ہے’۔

دنیا بھر میں موجود ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیم نے رکن ممالک کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ‘تمام رکن ممالک اس منصوبے پر عمل نہ کریں اور امریکی انتظامیہ کو اس کے نفاذ کے لیے کسی بھی صورت میں معاونت نہ کریں’۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 جنوری کو اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں مشرق وسطیٰ کے لیے امن منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یروشلم، اسرائیل کا 'غیر منقسم دارالحکومت' رہے گا جبکہ فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم میں دارالحکومت ملے گا اور مغربی کنارے کو آدھے حصے میں نہیں بانٹا جائے گا۔

امریکا کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبے میں مغربی پٹی میں اسرائیلی آباد کاری کو تسلیم کرلیا گیا ہے اور ساتھ ہی مغربی کنارے میں نئی بستیاں آباد کرنے پر 4 سال کی پابندی لگادی۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'اس طرح فلسطینیوں کے زیر کنٹرول علاقہ دوگنا ہوجائے گا'۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کردیا تھا اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اوسلو معاہدے کے تحت سلامتی تعاون سے دستبردار ہونے کا پیغام بھیج دیا تھا۔

فلسطینی اتھارٹی نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی سمیت تمام تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

بعد ازاں مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ منصوہ امن کے ناکافی ہے اور عرب لیگ اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے امریکا سے تعاون نہیں کرے گی۔

انہوں نے یقین دلایا تھا کہ فلسطین کی ریاست 1967 کی مشرق وسطیٰ جنگ میں اسرائیل کی جانب سے قبضہ کی گئی زمین پر قائم ہوگی اور مشرقی یروشلم دارالحکومت ہوگا۔

اجلاس میں مصر، سعودی عرب، اردن، عراق، لبنان سمیت دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے علاوہ فلسطین کے صدر محمود عباس بھی شریک تھے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکا کی جانب سے فلسطین-اسرائیل تنازع کے حل کے لیے مجوزہ منصوبے کی حمایت کرنے والے عرب ممالک کو 'غدار' قرار دیتے ہوئے منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔

ترک صدر نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'بعض ایسے عرب ممالک ہیں جو امریکی منصوبے کی حمایت کرتے ہیں وہ یروشلم (بیت المقدس) کے ساتھ، اپنے لوگوں کے ساتھ اور اس سے بھی اہم بات کہ پوری انسانیت کے خلاف غداری کر رہے ہیں'۔

 

3876168

 

 

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: