IQNA

8:22 - April 07, 2020
خبر کا کوڈ: 3507477
تہران(ایکنا)کورونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے؟ کوئی حکومت ڈیلیور نہیں کررہی، سب کو پیسے کی پڑی ہے۔

سپریم کورٹ میں انڈرٹرائل قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کےمعاملے کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں5 رکنی بینچ نے کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کیسی ہیلتھ ایمرجنسی ہے کہ ملک بھر کے اسپتال بند کر دیے، شوگر اور امراضِ قلب کے مریض کہاں جائیں؟

انہوں نے کہا کہ کورونا کے علاوہ تمام مریض اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیے؟ کوئی حکومت ڈیلیور نہیں کررہی، سب کو پیسے کی پڑی ہے۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے چیمبر میں سماعت کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ 'پتہ ہے آپ چیمبر میں کیا بتائیں گے،  یہ نہیں پتہ کہ ظفر مرزا کی کوالی فکیشن کیا ہے ؟ وہ صرف ٹی وی پر پروجیکشن کرتے ہیں،  وفاق کی رپورٹ واضح کر رہی ہے کہ وفاق کچھ نہیں کر رہا۔ کے پی اور سندھ حکومتیں صرف پیسہ مانگ رہی ہیں کام نہیں کر رہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کورونا کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ یہ کس قسم کی ایمرجنسی ہے کہ تمام اسپتال بند ہیں، پورے ملک میں پرائیویٹ کلینک بھی بند ہیں، گراونڈ پر کیا ہورہا ہے، کسی کو علم نہیں، کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، شوگر اور امراض قلب کے مریض کہاں جائیں؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو ٹی وی پر بتایا جارہا ہےکہ گھر سے نہ نکلیں اور ہاتھ 20 بار دھوئیں، صوبائی حکومتیں پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو کی باتیں کررہی ہیں، ٹی وی صبح سے شام تک لوگوں کو ڈرا رہا ہے، تمام چیف منسٹر گھروں سے آرڈر دے رہے ہیں اور گراؤنڈ پر کچھ نہیں ہورہا ہے۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ صوبوں کے پاس ٹیسٹ کے لیے کٹس ہی موجود نہیں، صوبے کہہ رہے ہیں 10 ارب دے دو،گلوز اور ماسک لینے ہیں، سب کاروبار بندکردیےگئے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

انہوں نےمزید ریمارکس دیے کہ قرنطینہ میں ایک کمرے میں دس دس لوگ رہ رہے ہیں، دو کمروں کے گھروں میں دس دس لوگ رہتے ہیں، لوگ تین 4 دن شکلیں دیکھیں گے پھر ایک دوسرےکو ہی کھانےلگیں گے، کسی حکومت نے سڑکوں پر اسپرے نہیں کرایا، مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے ہیں کچھ معلوم نہیں، وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، کل تک عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کرائیں۔

217987

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: