IQNA

8:35 - June 24, 2020
خبر کا کوڈ: 3507811
تہران(ایکنا) میانمار کے مسلمان نشین علاقے رخائن میں ایک سال سے نیٹ کاٹ دیا گیا ہے ۔

میانمار کی فوج نے سال ۲۰۱۷ میں رخائن پر مسلمانوں کو شدید ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے لاکھوں افراد ہجرت پر مجبور ہوگئے۔

 

حکام نے ان علاقوں میں ۲۱ ژوئن ۲۰۱۹ کو نیٹ بند کردیا تھا جو اب تک جاری ہے تاکہ عوام خبر بیرون ممالک تک نہ پہنچا سکے۔

 

عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے اس صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے نیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

 

ھالینڈ کے انسانی حقوق کمیشن کے ادارے کے رکن لاتیتیا فان ڈن اسوم نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا: نیٹ کو ختم کرنا مذموم حرکت ہے جس سے اطلاعات کی دستیابی میں رکاوٹ ڈالی جاسکتی ہے۔

 

نہ صرف کہ مشکلات کے حوالے سے دنیا یہاں کی صورتحال سے بے خبر ہے بلکہ کورونا بحران کے حوالے سے بھی خبر کی ترسیل ناممکن ہوچکی ہے۔

 

سال ۲۰۱۷، میں مسلمانوں کی شہریت کے انکار کے بعد یہاں کے لوگوں کو بدترین مظالم کا نشانہ بنانے کا گھناونا عمل شروع ہوچکا ہے۔

 

فوج کے مظالم سے تنگ کم از کم ۷۳۰ هزار روھنگیا انڈیا اور بنگلہ دیش ہجرت کرچکے ہیں جبکہ عالمی عدالت نے بھی میانمار کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔/

3906536

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: