سوئیڈن میں قرآن سوزی پر او آئی سی اور الازهر کا رد عمل

IQNA

سوئیڈن میں قرآن سوزی پر او آئی سی اور الازهر کا رد عمل

9:01 - August 31, 2020
خبر کا کوڈ: 3508145
سوئیڈن میں قرآن سوزی پر او آئی سی اور الازهر کا رد عمل
تہران(ایکنا) اسلامی تعاون تنظیم اور الازھر نے الگ بیانات میں سوئیڈن کے شہر مالمو میں قرآن سوزی کی شدید مذمت کردی۔

اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے اتوار کو ایک بیان میں سوئیڈن کے شہر مالمو میں قرآن سوزی کی مذمت کی ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ قرآن کو جلانا ایک تحریک آمیز اقدام ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا ہے اور عالمی برادری کو ان اقدمات کی روک تھام کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

 

او آئی سے سوئیڈش حکومت سے مجرموں کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

 الازهر کا رد عمل

 

اسلامی مرکز الازهر نے شهر «مالمو» میں جمعہ کو ہونے والے قرآن سوزی کی شدید مذمت کی ہے۔

 

الازهر نے اس اقدام کو اقلیتوں کے حقوق کی پامالی اور عدم رواداری کی مثال قرار دیا ہے۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے اسلام فوبیا کو تقویت ملے گی جس سے بقائے باہمی کی فضا کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے.

 

الازهر نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدام کریں اور ایسی فضا پیدا کی جائے کہ مسلمان آزادی سے رائے کا اظھار کرسکیں۔

 

تحریک اسلامی فلسطین

 

فلسطینی جھاد اسلامی تنظیم نے سوئیڈن میں قرآن سوزی کی مذمت کرتے ہوئے اس جنایت قرار دیا ہے۔

 

اقدام کو دہشت گردانہ قرار دیتے ہویے اسے وحدت کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

 

اسلامی جھادی تنظیم نے کہا ہے کہ جو لوگ ان اقدامات کی حمایت کرتے ہیں وہی لوگ اس کے اثرات کے ذمہ دار ہوں گے۔

 

جھادی تنظیم نے تمام مسلمانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جہاں ہے وہ مذہب، قرآن کریم اور رسول الله (ص) کا دفاع کریں۔

 

مالمو میں قرآن سوزی کے بعد فسادات کی بھی اطلاعات ہیں۔

 

مالمو شہر کے علاقے «روزنگارڈ» میں واقعہ پیش آیا جسکی فلم وائرل ہوئی ہے۔

 

پولیس نے واقعہ کے وقت مداخلت کرتے ہوئے افراد کو منشترکی جبکہ مسلمانوں نے احتجاج کیا اور پولیس سے جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں.

 

ڈنمارک کے اسلام مخالف سیاست داں راسموس پالوڈن نے قرآن سوزی کی دعوت دی تھی تاہم وہ خود پولیس کی مداخلت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے تھے./

3919933

نظرات بینندگان
captcha