
انتفاضہ فلسطین کی تینتیسویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ کانفرنس میں تقریب اسلامی کے جنرل سیکریٹری حجتالاسلام حمید شهریاری نے خطاب میں کہا: مزاحمتی علما کے بلاک کی مخالفت کرنے والے شکست خوردہ عناصر ہیں حالانکہ اس بلاک سے اسلامی معاشرے کی روح کو تقویت پہنچ رہی ہے۔
شهریاری کا کہنا تھا: مسئله فلسطین امت اسلامی کی زندگی کی علامت ہے اور غاصب کو تسلیم کرنے کی ہر کوشش خیانت شمار ہوگی۔
انکا کہنا تھا کہ جب بھی مزاحمت کی آواز بلند ہوتی ہے تو وحدت کی فضاء بھی جنم لیتی ہے۔
مزاحمتی علما کونسل کے سربراہ شیخ «ماهر حمود» نے کانفرنس سے خطاب میں کہا: تینتیس سال گزرنے کے بعد ثابت ہوا کہ پتھر گولی سے زیادہ طاقت ور اور ایمان جھوٹے وعدوں سے زیادہ پائیدار ہے.
انہوں نے «اوسلو» معاہدے کے خاتمے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن سے رابطہ کسی صورت برداشت نہیں۔
شیخ حمود نے کہا کہ غزہ میں کل صرف پتھر ہتھیار تھا لیکن آج انکے پاس جدید ترین میزائیل اور اسلحے ہیں اور مزاحمت روبروز مضبوط ہورہی ہے۔
انکا کہنا تھا: امریکہ نے مزاحتمی بلاک کی شکست کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیا ہے۔
مزاحمتی علما کی چھٹی کانفرنس کل منگل کو «انتفاضه امت دشمن سے دوستی کے مقابلے میں» کے عنوان سے شروع ہوچکی ہے۔/