IQNA

8:19 - March 06, 2021
خبر کا کوڈ: 3508990
امریکا نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں پیشرفتوں کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے اور اس معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

20 جنوری کو جو بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکی وزیر خارجہ کی روزانہ کی نیوز بریفنگ میں مسئلہ کشمیر کو باقاعدگی سے اٹھایا جارہا ہے۔

امریکی میڈیا کے صحافی یہ جاننے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں کہ نئی انتظامیہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی قوتوں، بھارت اور پاکستان کے درمیان اس پرانے تنازع سے نمٹنے کا ارادہ کس طرح کرتی ہے۔

نیوز بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کو یاد دلایا کہ بھارت اور پاکستان نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ امن برقرار رکھنے کے اپنے عہد کی تجدید کی تھی۔

 

اس کے بعد سے ہی دونوں نے 2003 میں جس جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے ان کی خلاف ورزیوں سے گریز کیا ہے لیکن امن بدستور کمزور ہے۔

 

صحافی نے سوال کیا کہ 'امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جنگ بندی برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے کیا کرنے جا رہے ہیں'۔

 

نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ 'یہ سچ ہے کہ ہم جموں و کشمیر میں ہونے والی پیش رفت کو بہت قریب سے دیکھتے آرہے ہیں، خطے کے بارے میں ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی'۔

 

انہوں نے کہا کہ 'ہم تمام فریقین سے 2003 کے جنگ بندی کے وعدوں پر واپس آتے ہوئے لائن آف کنٹرول کے ساتھ تناؤ کو کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، ہم ان دہشت گردوں کی مذمت کرتے ہیں جو لائن آف کنٹرول کے پار دراندازی کرنا چاہتے ہیں'۔

 

اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ واشنگٹن دونوں فریقین کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کا احترام کس طرح یقینی بنائے گا نیڈ پرائس نے کہا کہ 'ہم بھارت اور پاکستان کے درمیان کشمیر اور دیگر شعبوں پر براہ راست بات چیت کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں'۔

 

صحافی نے پھر نشاندہی کی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت پر زور دینے سے کشمیری رہنماؤں پر منفی اثر پڑا ہے جو اس عمل میں خود کو بے آواز محسوس کررہے ہیں۔

 

صحافی نے سوال کیا کہ 'کیا امریکا حقیقت میں نہ صرف بھارت اور پاکستان بالکہ کشمیریوں رہنماؤں سے بھی مشغول ہونے کے لیے کچھ کرنے جا رہا ہے؟'۔

 

امریکی عہدیدار نے کہا کہ 'میرے پاس اس حوالے سے آپ کے لیے کچھ نہیں ہے، اگر ہم اس میں کچھ بھی شامل کرسکتے ہوں تو ہم ضرور کریں گے'۔

 

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل اس ہی طرح کی بریفنگ کے دوران نیڈ پرائس نے بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے اس کے لیے 'وفاقی اکائی' کی اصطلاح استعمال کی تھی تاہم اس نے اسی وقت اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کی کشمیر کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

 

امریکا نے جموں وکشمیر کو مستقل طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازعا علاقہ تسلیم کیا ہے اور دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں تاہم گزشتہ ماہ مقبوضہ وادی میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ایک ٹوئٹ نے متنازع علاقے کو 'بھارت کا جموں و کشمیر' کہا تھا۔

 

اسلام آباد نے اس گمراہ کن بیان کا فوری جواب دیتے ہوئے واشنگٹن کو یاد دلایا تھا کہ یہ خطے کی متنازع حیثیت سے متضاد ہے۔

1155318

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: