IQNA

19:16 - March 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3509016
تہران(ایکنا) ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ دشمن جنگ نرم کے ذریعے دو اہداف پر کام کر رہا ہے ایک حق اور صبر کی تلقین کا سلسلہ بند ہوجائے اور دوسرے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکی فوجیوں کو عراق اور شام سے نکلنا ہوگا آپ نے فرمایا امریکا نے داعش کو خود بنایا اور اس کا اعتراف بھی کیا لیکن داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام میں غاصبانہ طریقے سے موجود ہے -

 

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ستائیس رجب عید مبعث کے موقع پراپنے نشری خطاب میں ایرانی قوم، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ عید مبعث انصاف کے طلبگاروں کی عید ہے۔

 

آپ نے فرمایا کہ یہ وہ عظیم دن ہے جس دن مرسل اعظم ص کا قلب مبارک گرانبہا الہی امانت یعنی وحی کا خزانہ بنا اور عالم وجود کی سنگین ترین ذمہ داری آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دوش مبارک پر ڈالی گئی ۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ توحید کے معنی صرف یہ نہیں کہ انسان دل میں یہ عقیدہ رکھے کہ خدا ایک ہے  بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا کی حاکمیت کو قبول کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ انسانوں کی تعلیم، انصاف کا قیام تمام انبیائے الہی کی بعثت کا اہم ترین مقصد ہے کیونکہ انسانی سماج کو انصاف کی بنیادوں پر چلایا جانا چاہئے۔

 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران کے اسلامی انقلاب کو بعثت کا تسلسل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی انقلاب ایران نے عصر حاضر میں بعثت کے مضامین کی تجدید کی ہے، خداوند متعال نے امام خمینی رح کو توفیق عطا کی کہ وہ عصر حاضر میں بعثت نبوی کے راستے کو اپنے اقدامات، شجاعت اور اعلی افکار کے ذریعے جلا بخشیں۔

 

آپ نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کو بھی اپنی کامیابی کے بعد اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جس کا پیغمبراسلام صلی اللہ وآلہ وسلم کو کرنا پڑا تھا یعنی عالمی شرپسند اور جرائم پیشہ طاقتیں اس کے مقابلے میں صف آرا ہوگئی تھیں ۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے امریکہ اور سابق سویت یونین کی دشمنی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس کے علاوہ کسی اور چیز کی توقع بھی نہیں تھی اور ہمیں معلوم تھا کہ امریکہ اور سویت یونین ایسے انقلاب کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف صف آرا ہوجائیں گے۔

 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے دشمن کے مقابلے کے لیے بصیرت اور استقامت جیسے عناصر کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ہمیشہ دو عناصر کی سفارش کی ہے ایک بصیرت اور دوسرا صبر و استقامت کا عنصر ہے، اگر یہ دو عناصر موجود ہوں گے تو دشمن ہمارا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔

 

آپ نے اسلامی انقلاب کے خلاف دشمن کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمن سافٹ وار کے ذریعے دو اہداف پر کام کر رہا ہے ایک حق اور صبر کی تلقین کا سلسلہ بند ہوجائے اور دوسرے حقائق کو توڑ مروڑ کر اور حتی برعکس ظاہر کرے ۔

 

رہبرانقلاب اسلامی نے دشمن کی دروغگوئی اور حقائق کو الٹا دکھانے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا دشمن اس قدر ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے کہ سننے والا اسے سچ سمجھنے لگتا ہے۔

 

آپ نے فرمایا کہ یمن کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں پچھلے چھے برسوں سے  امریکہ اور اس کا جارح عرب اتحاد  یمنی عوام اور ان کے گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہا ہے ، اس جارح اتحاد نے  یمن کا اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے ، غذائی اشیا اور دوائیں تک نہیں پہنچانے دے رہا ، لیکن جیسے ہی یمن کے بہادر اور دلیر عوام اپنے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے چھے سال  سے جاری بمباری کا جواب دیتے ہیں تو پروپیگنڈہ مشینری سرگرم ہوجاتی ہے اور قتل و غارت گری کا شور مچانے لگتی ہے-

 

رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی دروغگوئی کی ایک اور مثال کا ذکر تے ہوئے فرمایا کہ دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے اور اسے استعمال کرنے والا ملک امریکہ جس نے ایک دن میں دو لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کو ایٹمی بمباری کے ذریعے قتل کرڈالا ہے، آج کہتا ہے ہم عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خلاف ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اپنے مخالف  کو قتل کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی سعودی حکومت کی حمایت کرنے والا امریکہ انسانی حقوق کی حمایت کے دعوے کرتا ہے۔

 

رہبر انقلاب اسلامی نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی تشکیل میں امریکہ کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ داعش کو خود امریکہ نے بنایا اور اس کا اعتراف بھی کیا ہے، اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام میں اڈے قائم کر رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران کی علاقائی موجودگی کے بارے میں منفی پروپییگنڈا کیا جاتا ہے اور اسے علاقے میں عدم استحکام کا سبب قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ ہم جہاں بھی موجود ہیں ان ملکوں کی قانونی حکومتوں کی درخواست پر ان کے دفاع کے لیے موجود ہیں۔

 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ  علاقے میں کہیں بھی ایرانی فوجیں موجود نہیں ہیں اگر کہیں ہمارے فوجی ہیں بھی تو وہ مشاورت کے لئے ہیں  البتہ امریکہ کسی بھی ملک کی اجازت کے بغیر داخل ہوتا ہے اور وہاں اپنے اڈے بنا لیتا ہے جیسا کہ اس نے شام میں کررکھا ہے ۔

 

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ کو عراق سے جانا ہوگا اور شام سے بھی  جتنا جلد ممکن ہو امریکہ کو نکل جانا چاہیے۔

3959040

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: