IQNA

11:43 - May 04, 2021
خبر کا کوڈ: 3509234
تہران(ایکنا) مصری وزارت صحت کے مطابق تیس سال بعد افطار پر توپ کا گولہ داغا گیا۔

عربی اسکای نیوز کے مطابق قاہرہ کے قلعه صلاح‌الدین میں واقع پولیس میوزیم میں توپ سے گولہ داغ کر افطار کیا اعلان کیا گیا۔

 وزارت  صحت کے سیکریٹری ایمان زیدان کا کہنا تھا: وزارت صحت نے فیصلہ کیا کہ سیاحت کو فروغ دینے کےلیے اس سلسلے کو شروع کیا گیا ہے۔

 

انکا کہنا تھا: قلعه صلاح‌الدین سے سیکورٹی اہتمام کے ساتھ توپ سے گولہ فائر کیا جائے گا۔ اس سے پہلے اسلامی تاریخ اور اسی طرح یہودی روایات میں توپ فائر کرنے کی مختلف داستانیں موجود ہیں۔

 

کہا جاتا ہے کہ رمضان میں پہلی بار توپ فائر کی روایت پندرہویں صدی سے مصر میں ملتی ہے جب عین افطار کے وقت اتفاقی طور پر توپ سے فائر ہوا اور لوگ یہ سمجھے کہ افطاری سے آگاہ کرنے کے لیے توپ کا گولہ داغا گیا ہے جس پر بڑی تعداد میں لوگوں نے اس وقت کے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا، جب بادشاہ نے لوگوں کی خوشی کو دیکھا تو حکم دیا کہ ہرروز افطاری کے موقع پر یہ کام انجام دیا جائے۔

 

بعض دیگر روایات کے مطابق مصر کے  اسماعیل پاشا کے زمانے میں توپ کا گولہ ایک سپاہی کی غلطی سے عین افطاری کے موقع پر شروع ہوا جس پر لوگوں نے خوشی منائی تو اس کی خبر پاشا کی بیٹی حاجیہ فاطمہ کو ملی اور انہوں نے پاشا سے درخواست کی کہ ہر روز افطاری کے موقع پر توپ داغا جائے۔

 

اس وقت سے یہ سلسلہ توپ حاجیه فاطمه کے نام سے معروف ہوا اور سحر اور دیگر مقدس رسموں کے موقع پر توپ کا گولہ فایر کیا جاتا ہے۔

 

اگرچہ توپ سے فایر کا سلسلہ تیس سالوں سے بند ہوچکا ہے تاہم اب بھی مصری لوگوں کا وہ زمانہ یاد ہے اور افطاری کے موقع پر توپ سے فایر کی روایت انکی یادوں کو زندہ کرسکتی ہے۔/

3968815

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: