IQNA

کینیڈا میں اسلامو فوبیا کی تاریخ پر نظر؛
8:25 - June 09, 2021
خبر کا کوڈ: 3509507
تہران(ایکنا) کینیڈیا کے میڈیا غیر انسانی، شدت پسندانہ، متعصبانہ اور غیر عادلانہ روش کے ساتھ اسلامو فوبیا پر کام کررہے ہیں۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز جرائم خطرناک صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔

 

آخری واقعہ میں گذشتہ روز انٹاریو کے شہر لندن میں پیش آیا جسمیں ایک گورے نے ٹرک سے جان بوجھ کر ایک ہی خاندان کے چار افراد کو کچل ڈالا جبکہ انکا نو سالہ بیٹا شدید زخمی حالت میں ہے۔

 

کینیڈین میڈیا کے مطابق سڑک کنارے کھڑے اس پاکستانی نژاد خاندان کو ٹرک نے کچل ڈالا جسمیں بیس سالہ

ناتانیل ولٹمن (Nathaniel Veltman)  کینیڈین جوان نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انکو مسلمان ہونے کی وجہ سے مار ڈالا۔

 

اگرچہ کینیڈا کی تاریخ کا یہ پہلا یا اخری واقعہ نہیں تاہم اکیسویں صدی اور بالخصوص نائن الیون واقعے کے بعد سے صورتحال بگڑ چکی ہے۔

 

کینیڈین سروے کے مطابق ۲۰۱۲ اور ۲۰۱۵ کے درمیان نفرت انگیز جرائم تین گنا بڑھ چکا ہے، سال ۲۰۱۵ میں مسلمانوں کے خلاف ۱۵۹ واقعات رونما ہوئے جب کہ ۲۰۱۲ میں یہ پینتالیس واقعات رونما ہوئے تھے۔

 

پودا جو میڈیا پروپگنڈوں سے تناور درخت بنا

اسلاموفوبیا کے واقعات میں مساجد پر حملہ، مسلمانوں پر حملہ اور توہین، خواتین کی توہین اور حجاب اتارنے سمیت دیگر واقعات شامل ہیں جبکہ جنوری ۲۰۱۷ کو کبک مسجد پر حملے میں چھ مسلمان شہید ہوئے تھے، مئی ۲۰۱۶ کو ایک ایرانی طالب علم حملے میں شدید زخمی ہوا۔ دیگر مسلم اقلیتوں کے علاوہ مسلمانوں سے شباہت کی وجہ سے سکھ برادری بھی حملوں میں نشانہ بنتے آرہے ہیں۔

 

اس درمیان سرکاری متعصبانہ رویہ بھی قابل ذکر ہے جہاں حجاب پر پابندی کے علاوہ اسلامی طرز و ثقافت کی علامتوں کو ممنوع کیا گیا اور سرکاری اداروں میں مسلمانوں پر بیجا پابندیاں لگائی گئیں۔

 

اسلامو فوبیا میں بڑا کردار میڈیا نے ادا کیا ہے اور ۲۰۰۷ کے سروے میں کہا گیا ہے کہ ۲ ۲۳ مغربی ممالک میں سب سے بہتر رویہ کینیڈا میں لوگوں کے مسلمانوں کے ساتھ ہے اور صرف ساڑھے چھ فیصد لوگ مسلمانوں کے ہمراہ زندگی کو اچھا نہیں سمجھتے۔

 

تاہم جدید سروے جو آنگوس ریڈ (Angus Reid)  فاونڈیشن نے سال ۲۰۱۵ میں انجام دیا اس کے مطابق  ۴۴ فیصد لوگ مسلمانوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور اس کا کریڈٹ میڈیا پروپگنڈوں کو جاتا ہے۔

 

کبک شہر میں اسلامو فوبیا کی لہر میں سب سے زیادہ شدت آئی ہے اگرچہ دیگر شہروں میں بھی صورتحال بہتر نہیں۔

 

جولائی ۲۰۱۶، کو MARU / VCR & C  کمپنی کی سروے کے مطابق اونٹاریو شہر کے ادھے لوگ اسلام کو تشدد میں اضافے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

 

 تین چوتھائی لوگوں کا کہنا تھا کہ مسلمان مہاجرین کی اقدار ان سے مختلف ہیں اور اکثر لوگ شامی اور مسلم مہاجرین کی آمد کے شدید مخالف ہے۔

 

ان معاملات میں کینیڈا کے میڈیا نے منفی کردار ادا کیا، کینیڈا میں میڈیا امور کے ماہر

. کریم اچ کریم(Karim H. Karim)، کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد  « اسلام کا خطرہ»  «روسی خطرے» سے بدل گیا۔

 

کینیڈا کے میڈیا غیر انسانی، شدت پسندانہ، متعصبانہ اور غیر عادلانہ روش کے ساتھ اسلامو فوبیا پر کام کررہے ہیں اور وہ مسلمانوں کے دہشت گرد، وحشی اور ففتھ کالم کے الفاظ عام استعمال کرتے ہیں۔

 

کینیڈا اور مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف نفرت انگیز جرایم کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک میں مسلم اور اسلام کے خلاف پروپگنڈہ میڈیا میں بدستور جاری ہے جس کے اثر میں حجاب پابندی عام ہوچکی ہےاور اس کے تدارک کے لیے مسلمان اور غیر مسلم ممالک کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کام کینیڈا کی حکومت میں مسلمانوں کے لیے بڑا چیلنج ہے۔/

3976198

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: