غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کے سیکورٹی نمایندے محمد نعمان ریحان نے خبر دی ہے کہ کابل ائیرپورٹ کو ہفتے سے عام پروازوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
الجزیرہ سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ ائیرپورٹ کو عوام سے خالی کرایا گیا ہے گرچہ ائیرپورٹ کے اطراف میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ائیرپورٹ کے اطراف کو ہجوم سے خالی کرانے کے لیے گذشتہ روز بھی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
انکا کہنا تھا کہ کابل ائیرپورٹ کو امریکی فوجی سنبھال رہی ہے اور شدید رش کی وجہ سے گذشتہ روز کئی غیرملکی سفارت کار ائیرپورٹ نہ جاسکے۔
غیرملکیوں کا اخراج جاری
حالات کنڑول آنے کے بعد انڈین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انکے سفیر اور دیگر سفارت کار گذشتہ روز کابل سے نکلنے میں کامیاب ہوگیے ہیں۔
فرانس نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایک جہاز انکے متعدد سفارت کاروں کو نکال کو امارات پہنچا چکا ہے۔
پنٹاگون کے اعلی فوجی کمانڈر نے کہا تھا کہ منگل کو ائیرپورٹ کو کلیر کرالیا گیا ہے اور امریکی فورسز وہاں پر ضروری اقدامات کررہی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق گذشتہ روز جرمنی سے ایک فوجی طیارہ لینڈ کرچکا ہے تاکہ وہاں اپنے سفارت کاروں کو واپس لے جاسکے۔
پنٹاگون نے کہا ہے کہ کابل میں امریکی فورسز کی تعداد چھ ہزار تک پہنچائی جارہی ہے اور حالات سنبھلتے ہی فوجی طیاروں کی آمدورفت شروع کی جائے گی تاہم گذشتہ روز کے واقعے کے حوالے سے نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں طالبان کا ہاتھ ہے۔
امریکی حکام کے مطابق طالبان کو کہا گیا ہے کہ کسی بھی امریکی اہلکار پر حملہ کا سخت رد عمل ہوگا۔
پنٹاگون کے مطابق حالات کے حوالے سے اس وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا اور اس مہینے کے آخر تک امریکی فورسز کے انخلا کا مشن جاری رہے گا۔
طالبان کا امریکہ کو انتباہ
المیادین کے مطابق طالبان نے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ امریکی فورسز کا انخلا گیارہ ستمبر تک یقینی بنائی جائے۔
طالبان کا کہنا تھا کہ ہمارا امریکیوں پر حملے کا کوئی پروگرام نہیں۔
اس سے پہلے طالبان اور ڈونالڈ ٹرمپ میں معاہدہ ہوا تھا کہ امریکی فورس کا انخلا مئی تک مکمل ہوگا مگر صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ ستمبر تک انخلا مکمل کیا جائے گا۔
سفارت کار اور غیرملکیوں کا انخلا
گلبدین حکمتیار کے مطابق گذشتہ روز حامد کرزئی نے عبدالله عبدالله کے ہمراہ دوحہ جائیں گے جہاں وہ طالبان رہنماوں سے گفتگو کریں گے۔
حکمتیار کے مطابق اس گفتگو میں پاور شیرنگ اور پرامن منتقلی پر بات چیت ہوگی اور امید ہے کہ ایک کثیر الجہتی حکومت کے قیام پر بات نتیجے تک پہنچے گی۔
طالبان نے کہا ہے کہ وہ سب کو ساتھ لیکر چلنے کے حامی ہیں اور طالبان نمایندے عبدالسلام ضیف کے مطابق دیگر اپوزیشن رہنماوں سے بات کی جائے گی۔
طالبان نائب امیر قندهار پہنچ گیے
رپورٹ کے مطابق طالبان نائب امیر ملا عبدالغنی برادر، قطر سے قندھار پہنچ گیے ہیں اور وہ قندھار میں ملاقاتوں کے بعد کابل روانہ ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ طالبان بغیر کسی جنگ کے کابل میں داخل اور شہر کے حالات کو کنٹرول کو لے چکے ہیں۔/