
رای الیوم نیوز کے مطابق شخ الازھر نے «مذاہب ابراهیمی» اصطلاح پر تنقید کیا اور کہا: ایسے موضوع کا اختراع ایک خواب پریشان اور عقیدے کی آزادی کے خلاف ہے جو ایک طرح سے تاریخ کا اختتام یا گلوبلایشن طرز کا عمل ہے۔
شیخ احمد طیب الازهر نے الازھر یونیورسٹی کی کانفرنس سے خطاب میں کہا: ایسے دعوے بھی اینڈ آف ہسٹری کی طرح کی کوشش ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اگرچہ انسانوں کو وحدت کی دعوت تباہی سے بچانا ہے لیکن دوسرے الفاظ میں ایسی کوشش عقیدے اور انتخاب کی آزادی سے متصادم ہے۔
الطیب کا کہنا تھا کہ ایسی آزادیوں کی تمام مذاہب میں تاکید آئی ہے اور ایسی دعوت دراصل ایک خواب پریشان کی طرح ہے۔
شیخ الازهر کا کہنا تھا کہ جیسی رسالت ہم تک پہنچی ہے اور مذاہب کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ایک واحد مذہب کی طرف سب کا آنا غیرممکن ہے۔
انکا کہنا تھا کہ رنگ و نسل و زبان میں تفریق ایک تاریخی حقیقت ہے اور قرآن کہتا ہے کہ ہم نے لوگوں کو مختلف بنایا ہے اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی رنگ و زبان سے خلق کرتا۔
قابل ذکر ہے حالیہ سالوں میں «مذاہب ابراهیمی» کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد یہودی، عیسائی اور مسلمانوں کے درمیان سے اختلاف ختم کرانا ہے اور حالیہ اسرائیل اور بعض عرب ممالک میں اس اصطلاح کا استعمال عام ہونے لگا ہے۔/