
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سیاسی تنہائی کی وجہ سے حکومت خود گھبراہٹ کی شکار ہوچکی، عوام کو سوا تین سالوں میں مایوسیوں، تکلیفوں اور سبز باغوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ کرپشن اور بیڈگورننس کی وجہ سے ادارے تباہ ہوگئے۔ حکومت الیکشن کمیشن، نیب، ایوان، عدلیہ پر کنٹرول چاہتی ہے۔ ڈیجیٹل مشین دھاندلی کا منصوبہ ہے۔ سٹیٹس کو کے رکھوالے انتخابی اصلاحات نہیں چاہتے۔ عوام کو ہی بیدار ہونا پڑے گا، پوری قوم شفاف الیکشن کے انعقاد کے لیے کردار ادا کرے۔ ماضی کے حکمرانوں نے بھی نظریہ پاکستان سے غداری کی، پی ٹی آئی نے رہی سہی کسر نکال دی۔ جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ازالے کے لیے حکومت نے سوا تین سالوں میں کوئی کام نہیں کیا۔ جنوبی پنجاب پورے پاکستان کی خوراک کا مسئلہ حل کرسکتا ہے مگر یہاں کا کاشتکار تباہ ہوگیا۔ ڈی اے پی کی بوری کی قیمت تین ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ حقیقی تبدیلی کے لیے نوجوان کردار ادا کریں۔ 28 نومبر کو اسلام آباد میں بے روزگار نوجوانوں کو بلایا ہے۔ وزیراعظم نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان کرکے34 لاکھ برسرِ روزگارافراد کوبھی بے روزگار کردیا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جنوبی راو محمد ظفر اور امیر جماعت اسلامی ملتان ڈاکٹر صفدر ہاشمی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور اپنے وعدے کے مطابق جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ کا درجہ دے۔ سراج الحق نے کہا کہ افغانستان کے معاملہ حکومت مسلسل لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ حکومت افغانستان کو تسلیم کرے، اس کے لیے امریکہ اور مغرب کی طرف نہ دیکھے۔ افغانستان کے مسئلے پر او آئی سی اجلاس بلایا جائے اور دیگر اسلامی ممالک کو بھی افغانستان کو تسلیم کرنے کے لیے قائل کرے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں نے کشمیر پر مکمل سرنڈر کر دیا ہے۔ کشمیریوں سے بے وفائی پر حکمرانوں کو قوم کو جواب دینا ہوگا.