IQNA

8:52 - November 24, 2021
خبر کا کوڈ: 3510718
تہران(ایکنا) فرانس کا دعوی ہے کہ ائمہ جماعات کونسل کے قیام کا مقصد شدت پسندی سے مقابلہ ہے مگر خیال کیا جاتا ہے کہ اس سے مسلم طبقوں میں اختلاف ڈال کر اسلامی مراکز کو کنٹرول کیا جائے گا۔

ٹی آرٹی عربی نیوز کے مطابق دو سو علما اور ائمہ جماعات کی شرکت کے ساتھ اجلاس گذشتہ روز منعقد ہوا جہاں پیرس جامع مسجد میں مسلم ائمہ جماعات کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

 

اس اقدام کو صدرمیکرون کی سفارش پر اٹھایا گیا ہے جس نے شدت پسندی سے مقابلے کا منصوبہ بنایا تھا اور اسلامی مراکز پر کڑی نظارت کا مطالبہ کیا تھا۔

 

اجلاس جامع مسجد پیرس کے امام شمس الدین حافظ کی صدارت میں منعقد ہوا جس نے خطاب میں اس اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا: «اس اجلاس نے فرانس میں ہماری ذمہ داری کو اجاگر کیا» اور کہا کہ اجلاس فرنچ صدر کی سفارش پر منعقد ہوا ہے۔

 

اجلاس میں امام با أمادو کو کونسل کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ اس الاینس میں مختلف ممالک کے نمایندے شریک ہیں جنہوں نے اس کونسل کے لیے اختیارات  کا مطالبہ کیا ہے۔

 

اس اقدام سے جامع مسجد پیرس اور اسلامی کونسل میں اختلافات نے جنم لیا ہے جس کے بارے میں ایمہ کونسل نے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی ہے۔

کونسل اور اختلافات

فرنچ اخبار فیگارو نے اس اقدام کو اختلاف کی وجہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے. صدر میکرون کی جانب سے شدت پسندی سے مقابلے کے لیے اٹھائے گیے اس اقدام سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا ہے ۔

مکرون نے ہم آہنگی ،شدت پسندی سے مقابلے اور غیرملکی مداخلت سے دور رہتے ہوئے مذہبی سرگرمیوں پر نظارت کا فیصلہ کیا تھا۔

فیگارو کے مطابق تقریبا ۲۰۰۰ امام  اس وقت ۲۵۰۰ عبادت خانوں میں اس وقت مصرف عمل ہیں جن میں سے  ۳۰۰ افراد دیگر ممالک کے ہم آہنگی سے معین کیا گیا ہے  ان میں سے ۱۵۰ ترک ائمه ، ۱۲۰ الجزایری اور ۳۰  مراکشی علما ہیں۔

۱۹ نومبر ۲۰۲۰ کو میکرون نے اسلامی نمایندوں سے ملاقات میں فرانس کی اقدار کی حفاظت کا مطالبہ کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ فرانس غیرملکی مداخلت کو ختم کرے گا۔

 

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ صدر کے اقدامات سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا ہوگا جو پہلے ہی سے اسلام فوبیا کا شکار ہے اور اس اقدام سے سیاسی فایدہ اٹھانا ممکن ہوسکتا ہے۔/

4015782

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: