
العربی نیوز کے مطابق مصری پارلیمنٹ میں میڈیا کمیشن کے رکن یوسف الحسینی نے پرایمری اسکولوں میں حفظ قرآن پر اعتراض کیا تھا جس پر شدید اعتراضات کیے جارہے ہیں۔
یوسف حسینی نے محترمہ غانم السعید کی جانب سے اسکولوں میں حفظ کی تجویز پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر سسٹم عیسائی نظام کا نافذ ہے۔
سابق فٹبالر هانی رمزی نے یوسف حسینی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے: میں جب چھوٹا تھا تو کرسچن کلاس میں رہتے ہوئے میں نے حمد کا سورہ حفظ کیا اور استاد مجھ سے کہتے کہ اس کی تلاوت کرو، ہم سب بھائی تھے اور مصر ہم سب کا وطن ہے۔
الازهر کے بین الاقوامی فتاوی مرکز نے بیان میں کہا کہ جوانوں کی درست تربیت کے لیے اور معاشرے کی بقاء کی خاطر قرآنی تعلیم ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: خدا کی کتاب کا حفظ و فہم جوانوں کی تربیت روشن فکری و اعتدال پسندی میں مددگار ہے۔
قرآن ترقی کے لیے اہم وسیلہ ہے جس سے علم کا سرچشم پھوٹتا ہے اور اسکی مدد سے مھارت بڑھتی ہے۔
الازهر نے تاکید کی: جوانوں کو قرآن کریم سے دوری کی دعوت دراصل مذہب اور اقدار سے دوری کی دعوت ہے جس سے گمراہ کن چیزوں کے آنے کا راستہ فراہم ہوتا ہے۔
الازهر نے کہا ہے کہ قرآن کریم پہلی کتاب ہے جس میں آزادی، احترام کی تاکید کی ہے اور تمام انسانوں کو برابری کی دعوت دیتی ہے۔
الازهر نے مزید کہا: اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقدس کتاب کو درست سمجھ کر معاشرے میں بقائے باہمی اور معاشرے میں استحکام لایا جاسکتا ہے۔/