
اردو نیوز کے مطابق مدرسہ بورڈ کی چار اہم تجاویز کو انتظامیہ نے منظوری دیتے ہوئے حکم جاری کردیا ہے۔ اب سرکاری امداد یافتہ مدارس میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے تبادلے کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹی بھی ملے گی۔
یوپی مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے رجسٹرار جگ موہن سنگھ کے مطابق حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ ریاست کے امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کا تبادلہ اب باہمی رضامندی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے درخواست کو اس کی سفارش کے ساتھ رجسٹرار مدرسہ بورڈ کو دو ماہ کے اندر اندر ضلع اقلیتی بہبود افسر کو بھیجنا ہوگا۔
رجسٹرار ایک مہینے میں امتحان کرکے اس پر فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ اگر کہیں انتظامی کمیٹی میں اختلاف ہے تو متوفی پر مںحصر رہنے والے کی تقرری کے احکامات ضلع اقلیتی بہبود آفیسر اور پرنسپل کے ذریعہ جاری کئے جاسکتے ہیں۔ کمیٹی کے تنازع کی صورت میں اسے روکا نہیں جائے گا۔
وہیں امداد یافتہ مدارس میں کام کرنے والی اساتذہ اور دیگر خواتین ملازمین کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ اب دیگر محکموں کی طرح اب وہ بھی چھ ماہ کی زچگی کی چھٹی حاصل کر پائیں گی۔ اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دو سال کی چھٹی بھی ملے گی۔ حکومت نے متعلقہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔