
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق انتالیسیوں بین الاقوامی مقابلوں کی تیسری اور آخری رات دن کے ساڑھے تین بجے مقابلے شروع ہوئے جہاں دس قاریوں نے قرآت، قرآت ترتیل اور حفظ میں فن کے جوہر دکھائے۔
اس دن کی خاص بات ایرانی قاری کی ترتیل میں تلاوت اور انڈونیشیا قاری کی شاندار تلاوت تھی جنہوں نے بہترین تلاوت سے پورے ہال کو داد دینے پر مجبور کیا۔
آخری دن ہندوستان کے قاری نے بھی قرآت تحقیق میں قابل قدر تلاوت کی جو اس ملک میں ایک بہتر تلاوت شمار کی جاسکتی ہے۔
اس دن انڈونیشیاء کے قاری عبدالله فکری نے تمام اصوں کے ساتھ بہترین آواز اور تجوید کے ہمراہ یادگار تلاوت کی اور فن کا جوہر دکھایا۔
عبدالله فکری اس دن کا واحد قاری تھا جس نے عمدہ تلاوت سے ہال میں موجود تمام شائقین کو داد دینے پر مجبور کیا اور لوگ انکی تلاوت سے محظوظ ہوئے۔
ایکنا نیوز کی رپورٹ میں اس نکتے کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ بالاتفاق ماہرین اور ججز کے اس بار مقابلوں میں شرکاء کی وہ کیفیت دیکھی نہ گیی جس کی توقع تھی، بالخصوص جہاں دو سال کورونا کی وجہ سے مقابلے نہ ہوسکے تھے اور توقع کی جارہی تھی کہ اس وقفے کے بعد شرکاء کی اچھی خاصی تعداد ان مقابلوں سے استفادہ کریں گے۔
کہا جاسکتا ہے کہ کورونا نے ان مقابلوں پر جو اثر ڈالا ہے وہ وہی رک گیا ہے اور اس عرصے میں کوئی پیشرفت نہ ہوسکی ہے۔/
4123645