ایکنا: قرآنی اساتذہ کی فکری نشست میں، قرآنی مقابلوں کی بازآفرینی اور تمدنی شناخت کی مضبوطی پر زور دیا گیا۔

ایکنا نیوز کے رپورٹر کے مطابق، ملک کے قرآنی امور کے ماہرین، قراء، حفاظ اور بزرگ اساتذہ کی موجودگی میں مسلم دنیا کے طلبہ کے لیے منعقد ہونے والے ساتویں بین الاقوامی قرآنی مقابلے کی پہلی فکری نشست اتوار، کو ادارہ قرآنی یونیورسٹیز آف ایران کے شہید تقوی کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔
نشست کا آغاز بین الاقوامی قاری محمدرضا پورزرگری کی تلاوت سے ہوا۔ اس کے بعد جلیل بیتمشعلی، ادارہ قرآنی یونیورسٹیز آٖف ایران کے سربراہ اور ساتویں بین الاقوامی قرآنی مقابلے کے سیکرٹری نے اس اہم قرآنی ایونٹ سے متعلق نکات بیان کیے۔
اس کے بعد حاضر قرآنی اساتذہ نے مقابلے کو شایانِ شان انداز میں منعقد کرنے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں، جن کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

ایکنا کی رپورٹ کے مطابق، یہ نشست دو گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس میں درج ذیل اساتذہ شریک ہوئے: عباس سلیمی، سیدمحسن موسویبلده، محمدعلی خواجهپیری، مهدی قرهشیخلو، سیدعباس انجام، محمدحسین مسیبزاده، منصور قصریزاده، محمدرضا پورمعین، محمدحسین محمدزاده، محمدمهدی بحرالعلوم، سیدحسین موسویبلده، معصومه عباسینظری، الهام ماندگارمهر، سمیه حاجعلی، زکیه عبدالهیان، مهدی سیفی، میثم معافی۔ وزارت خارجہ کے نمائندے بہزاد محمدی بھی اس نشست میں شریک تھے۔
اسی طرح درج ذیل اساتذہ نے آن لائن شرکت کی: حیدر کسمایی، ولی یاراحمدی، محمدرضا ستودهنیا، مهدی دغاغله، غلامرضا شاهمیوهاصفهانی، قاسم رضیعی، اور کریم دولتی۔
4284635