حج؛ وحدت اور امت کے سیاسی قیام کا موسم

IQNA

مراکشی رائٹر:

حج؛ وحدت اور امت کے سیاسی قیام کا موسم

6:17 - May 30, 2026
خبر کا کوڈ: 3520266
ایکنا: حیات لعلاب، مراکشی صحافی اور مصنفہ نے اس بات پر زور دیا کہ حج باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے، دوسری ثقافتوں کو قبول کرنے، سیاسی وحدت اور دیگر اقوام کی رسومات و روایات کے لیے کشادہ دلی پیدا کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔

ایکنا نیوز- اسلامی مذاہب کے درمیان قربت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، فلسفۂ حج اور اس کے سماجی و عالمی اثرات کی اہمیت کے پیشِ نظر، ایکنا نے مراکشی صحافی اور مصنفہ حیات لعلاب سے گفتگو کی، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

ایکنا: اسلامی مذاہب کے قریب آنے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد میں حج کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتی ہیں؟

حج کے دینی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی پہلو ہیں۔ یہ ایسا عظیم اجتماع ہے جہاں مختلف زبانوں، نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ حج ایک روحانی وعدہ گاہ ہے جہاں مسلمانوں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کے رشتے مضبوط ہوتے ہیں، چاہے ان کی زبان یا مذہب مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ یہاں تمام ظاہری فرق مٹ جاتے ہیں اور مسلمان ایک ساتھ خداوندِ سبحان کی عبادت اور توحید میں محو ہوجاتے ہیں۔

امام خمینیؒ نے بھی اس بات پر تاکید کی تھی کہ حج امتِ مسلمہ کے لیے وحدت اور عظیم سیاسی و سماجی بیداری کا موسم ہے۔

ایکنا: فلسفۂ حج کیا ہے؟ مسلمان دنیا بھر سے کیوں جمع ہوتے ہیں اور اس سفر کے حاجیوں کی روح و نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

دنیا کے مختلف خطوں سے مسلمان اس فریضے کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب قرار دیا ہے۔ حج ایک عظیم سفر ہے جو بے شمار معنویت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، اور یہ ایک سالانہ عالمی اجتماع بھی ہے جہاں مسلمان ایک مقدس سرزمین پر اکٹھے ہوتے ہیں۔

جہاں تک حج کے روحانی اثرات کا تعلق ہے، جب حاجی اپنے وطن واپس لوٹتے ہیں تو ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکا ہوتا ہے۔ مناسکِ حج روح کی غذا ہیں اور حاجیوں کے دلوں میں سکون و اطمینان پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح حج انسان کو عاجزی، احساسِ ذمہ داری اور بہت سی اعلیٰ صفات سکھاتا ہے جو حاجی بیت اللہ کے سفر میں حاصل کرتے ہیں۔

ایکنا: عرفات اور مشعر الحرام میں وقوف کا کیا مفہوم ہے؟ ان دونوں مقامات کی روحانی اہمیت کیا ہے؟

وقوفِ عرفات حج کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے، جو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس کے حضور کامل عاجزی و انکساری کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔ یومِ عرفہ اپنے اندر بے شمار معانی رکھتا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:

عرفات میں لوگوں کا اجتماع انسان کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے کی یاد دلاتا ہے۔ اسی دن آیتِ اکمالِ دین نازل ہوئی جو حضرت امام علیؑ کی ولایت سے متعلق ہے۔ عرفات کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ امامِ زمانہ حضرت صاحب العصر والزمانؑ حاجیوں کے درمیان موجود ہوتے ہیں اور اپنی بابرکت موجودگی سے ان پر احاطہ فرماتے ہیں۔

دوسری جانب، عرفات میں وقوف اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کے اعتراف کی علامت بھی ہے، اور یومِ عرفہ حاجیوں کے لیے رحمت، برکت اور فیضِ الٰہی سے بھرپور دن شمار ہوتا ہے۔

ایکنا: رمیِ جمرات کس چیز کی علامت ہے؟ حاجی مخصوص ستونوں کو کنکریاں کیوں مارتے ہیں اور یہ عمل حضرت ابراہیمؑ کی زندگی کے کس واقعے کی یاد دلاتا ہے؟

امیرالمؤمنین حضرت علیؑ سے منقول روایت کے مطابق، رمیِ جمرات کی اصل حضرت ابراہیمؑ کے واقعے سے جڑی ہوئی ہے۔ جب حضرت جبرئیلؑ نے حضرت ابراہیمؑ کو مناسکِ حج سکھائے تو ابلیس ان کے سامنے ظاہر ہوا، جس پر جبرئیلؑ نے حکم دیا کہ وہ اس پر سات کنکریاں ماریں۔

رمیِ جمرات ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ یہ عمل شر اور برائی کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے؛ وہ برائی جو شیطان، اس کے پیروکاروں یا ہر اس شخص کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے جو لوگوں کو اللہ کے راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے۔

ایکنا: عیدِ قربان کے دن قربانی کرنے اور اس کا گوشت ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کا فلسفہ کیا ہے؟

حج میں قربانی ایک واجب عمل ہے، اور اس کے لیے بھیڑ، گائے یا اونٹ جیسے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔

دسویں ذی الحجہ کو قربانی ایک طرف خاندانوں کی معیشت میں آسانی اور وسعت کا ذریعہ بنتی ہے، جبکہ دوسری طرف یہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی علامت بھی ہے، جو مالی استطاعت نہیں رکھتے۔/

 

4354805

نظرات بینندگان
captcha