
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "صدی البلد" کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جامعہ ازہر کی عالمی اکیڈمی نے اس دو ماہہ تربیتی کورس کے شرکاء کے لیے فسطاط کے متعدد اسلامی اور مسیحی تاریخی مقامات کا دورہ ترتیب دیا۔ اس کورس میں الجزائر، نائجیریا، بھارت، گھانا، ٹوگو، بنگلہ دیش اور مڈغاسکر سے تعلق رکھنے والے ائمہ اور مبلغین شریک ہیں۔
ازہر عالمی اکیڈمی کے سربراہ، حسن الصغیر نے کہا کہ یہ مطالعاتی دورہ اس جامع پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت مصر کے دینی، ثقافتی اور تاریخی مقامات سے شرکاء کو روشناس کرایا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے بھی اکیڈمی نے شرکاء کے لیے جامع الازہر کا دورہ منعقد کیا تھا، جہاں انہیں اس عظیم مسجد کی تاریخ، اس کے مختلف صحنوں اور اسلامی علوم، عربی زبان اور اعتدال پسند فکر کے فروغ میں اس کے کردار سے آگاہ کیا گیا۔
حسن الصغیر کے مطابق، ان متنوع مطالعاتی دوروں کا مقصد ایسے مبلغین تیار کرنا ہے جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ ثقافتی آگہی بھی رکھتے ہوں۔ یہ سرگرمیاں مصر کے عظیم تاریخی، ثقافتی اور انسانی ورثے سے آگاہی فراہم کرتی ہیں اور شرکاء کی اس صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں کہ وہ دنیا بھر میں ازہر کے پیغام اور خدمات کی درست ترجمانی کر سکیں۔
اس پروگرام کے دوران شرکاء نے فسطاط کے متعدد اہم تاریخی اور مذہبی مقامات کا دورہ کیا۔ مسیحی آثار میں معلقہ کلیسا اور کلیسائے ابی سرجہ شامل تھے، جہاں انہیں ان مقامات کی تاریخی اہمیت سے آگاہ کیا گیا۔
غیر ملکی مبلغین نے قلعہ بابلیون کا بھی دورہ کیا، جو مصر کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار ہوتا ہے اور رومی دور سے لے کر اسلامی فتوحات تک کی تاریخ کی عکاسی کرتا ہے۔/
4355536