
ایکنا نیوز- العہد ویب سائٹ کے مطابق لبنان کے شیعہ مفتی شیخ احمد قبلان نے لبنانی صدر کے نام اپنے خط میں لکھا کہ آپ ایک ایسے منصب پر فائز ہیں جس کا تقاضا قوم کو متحد کرنا ہے، نہ کہ اس میں تفرقہ پیدا کرنا۔ بصورتِ دیگر آپ اپنی قومی ساکھ اور اعتبار کھو بیٹھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ آپ لبنان کے مفادات اور قومی مصلحتوں کے تعین میں غلطی کا شکار ہوں، لہٰذا ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ ایسے مؤقف اختیار کرنے سے گریز کریں جو صدارتی منصب کے شایانِ شان نہیں ہیں۔
شیخ قبلان نے کہا کہ صدرِ جمہوریہ کا عہدہ اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ وہ لبنان کے بڑے قومی خاندان کے مشترکہ نکات اور اتحاد کی علامت بنے، نہ کہ اختلاف اور تقسیم کا سبب۔ صہیونی حکومت کو سکیورٹی مراعات دینے کا دفاع کرنا، ایوانِ صدارت کے لیے مناسب مؤقف نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نبیہ بری اس حوالے سے ایک تاریخی قومی علامت ہیں اور بہت سے لوگ ان سے سیکھ سکتے ہیں اور انہیں اپنا نمونہ بنا سکتے ہیں۔
خط میں مزید کہا گیا کہ جناب صدر! ہمیں عوامی نمائندگی کے بارے میں درس نہ دیں، کیونکہ قومی اور عوامی نمائندگی کی بات نبیہ بری اور شیخ نعیم قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ سورج کو اپنی روشنی ثابت کرنے کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ جن کے پاس حقیقی عوامی نمائندگی نہیں، ان کی حقیقت سب پر واضح ہے، اگرچہ ہم اس بحث میں داخل نہیں ہونا چاہتے۔
شیخ قبلان نے مزید کہا کہ کوئی بھی قومی ادارہ جو جنوبی لبنان، بیروت کے جنوبی مضافات اور بقاع کے عوام کی نمائندگی نہ کرے، وہ لبنان کی حقیقی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ اسی طرح وہ ادارے جو اپنے عوام، قومی محاذوں، خودمختاری اور قومی جدوجہد کی نمائندگی نہ کریں، عوامی اور قومی نمائندگی کے دعوے کے حقدار نہیں ہیں۔
لبنان کے جعفری مفتی نے اپنے خط میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر مزاحمت کی وہ غیرمعمولی قوت موجود نہ ہوتی جس نے حالیہ جنگ کے دوران جنوبی سرحدوں پر اسرائیلی جنگی مشین کو روکے رکھا، تو اسرائیل صدارتی محل بعبدا تک پہنچ جاتا۔ لہٰذا، جناب صدر! جو شخص واقعی اپنے عوام کا نمائندہ ہو، وہ جنوبی لبنان کے باشندوں کی اپنے علاقوں سے بے دخلی کو قبول نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص لبنان کی فوج کو قومی دفاع کے حق سے محروم کرے اور پھر اسرائیلی فوج کے انخلا کے بغیر دریائے لیتانی کے جنوب سے مزاحمت کے انخلا کا مطالبہ کرے، وہ لبنان اور اس کے قومی محاذوں کا نمائندہ نہیں ہو سکتا۔
شیخ قبلان نے مزید کہا کہ ایران اپنے دوستوں کو امریکہ کی طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ایران ہی وہ ملک تھا جس نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے بیروت پر حملہ کیا تو جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا، جبکہ بیروت پر حملے کے لیے سبز جھنڈی ایران نے نہیں بلکہ امریکہ کے وزیر خارجہ نے دی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تہران وہ فریق ہے جس نے سن 2000 میں لبنان کی سرزمین کی آزادی کے لیے تاریخی سطح پر سب سے بڑی حمایت فراہم کی اور آج بھی اپنے عہد پر قائم ہے تاکہ لبنان امریکی منصوبوں اور اسرائیلی جنگی عزائم کا شکار نہ بنے۔/
4356481