
ایکنا نیوز- فلسطینی اطلاعاتی مرکز کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں عرب ممالک کے گروپ نے مغربی کنارے، القدس اور غزہ کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یکطرفہ اقدامات کے ذریعے دو ریاستی حل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ گروپ کے بیان میں کہا گیا کہ صہیونی حکومت موجودہ علاقائی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں نئے حقائق مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
عرب گروپ نے واضح طور پر اسرائیلی وزیرِاعظم ، وزیر خزانہ اور وزیر قومی سلامتی بن گویر کی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کرنا ہے۔ بیان میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبے کو مختلف یہودی بستیوں کو آپس میں جوڑنے اور مغربی کنارے کی جغرافیائی وحدت کو تقسیم کرنے کی کوشش قرار دیا گیا۔
عرب ممالک کے گروپ نے ان دستاویزی شواہد کا بھی حوالہ دیا جن میں فلسطینی قیدیوں، خصوصاً خواتین اور لڑکیوں، کے خلاف حقوق کی پامالی اور جنسی تشدد کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ گروپ نے زور دیا کہ یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے حقوق کو کمزور کرنے کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
بیان کے اختتام پر عرب گروپ نے فلسطینی مہاجرین کی فلاحی تنظیم کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بالخصوص مشرقی القدس، کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا۔
دوسری جانب، اسلامی تعاون تنظیم نے بھی اسرائیلی پالیسیوں کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نئی بستیوں کے منصوبے مغربی کنارے کو مختلف حصوں میں تقسیم کرکے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی وحدت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
تنظیم نے سابقہ اونروا ہیڈکوارٹر کی جگہ ایک فوجی کمپلیکس کی تعمیر کی منظوری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اقوامِ متحدہ کے اداروں اور تنصیبات کے استثنائی تحفظ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا۔/
4356368