فاطمہ کیٹس؛ برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والی پہلی معروف خاتون

IQNA

فاطمہ کیٹس؛ برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والی پہلی معروف خاتون

7:38 - June 15, 2026
خبر کا کوڈ: 3520329
فاطمہ کیٹس؛ برطانیہ میں اسلام قبول کرنے والی پہلی معروف خاتون
ایکنا: فاطمہ کیٹس برطانیہ کی ممتاز مسلم شخصیات اور لیورپول میں اسلام قبول کرنے والی پہلی معروف خاتون سمجھا جاتا ہے جنہوں نے مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود برطانوی معاشرے میں اسلامی تعلیمات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی muslimlitfest  کے مطابق فاطمہ کیٹس کا اصل نام فرانسس الزبتھ مُرے تھا۔ وہ 5 جنوری 1865ء کو انگلینڈ کے شہر بیرکن ہیڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق ایک محنت کش مسیحی خاندان سے تھا۔ 1870ء کے لازمی تعلیمی قانون کے بعد انہیں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ نوجوانی میں وہ "تحریکِ اعتدال  (Temperance Movement) سے وابستہ ہوئیں، جو شراب نوشی کے خلاف ایک سماجی تحریک تھی، اور لیورپول شاخ کی سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

اپنی سماجی سرگرمیوں کے دوران ان کی پہلی بار اسلام سے واقفیت اس وقت ہوئی جب انہوں نے برطانوی مسلم مبلغ Abdullah Henry Quilliam کا ایک خطاب سنا۔ کویلیام نے اپنے خطاب میں رسول اکرم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے آپؐ کو "وہ عظیم عرب شخصیت جو نشہ آور اشیاء سے اجتناب کرتی تھی" قرار دیا۔ اس گفتگو نے فاطمہ کے دل میں اسلام کے بارے میں مزید جاننے کا اشتیاق پیدا کیا۔

تاریخی روایات کے مطابق، کویلیام نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اسلام کے بارے میں دوسروں کی باتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود قرآن مجید کا مطالعہ کریں۔ انہوں نے قرآنِ کریم کا ایک مترجم نسخہ انہیں دیتے ہوئے کہا: اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا جاتا ہے اس پر یقین نہ کرو، خود اس کی حقیقت دریافت کرو۔

چند ہفتوں کے مطالعے اور غور و فکر کے بعد جون 1887ء میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے لیے "فاطمہ" نام منتخب کیا۔

تاہم ان کے اس فیصلے کو خاندان اور معاشرے کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں دینی فرائض کی ادائیگی سے روکنے کی کوششیں کی گئیں اور مختلف قسم کے سماجی دباؤ، اشتعال انگیزی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی سال جولائی میں فاطمہ کیٹس نے عبداللہ کویلیام اور علی ہیملٹن کے ساتھ مل کر "اسلامک سوسائٹی آف لیورپول" کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد برطانیہ میں اسلام کا تعارف اور اس کی تعلیمات کی اشاعت تھا۔ اس تنظیم کے تحت نماز، تلاوتِ قرآن اور مذہبی موضوعات پر گفتگو کے لیے ہفتہ وار اجتماعات منعقد کیے جاتے تھے۔

شدید مشکلات کے باوجود فاطمہ کیٹس نے خصوصاً خواتین میں اسلام کے تعارف کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی کوششوں سے متعدد برطانوی خواتین نے اسلام قبول کیا، جن میں ان کی بہنیں کلارا اور اینی بھی شامل تھیں۔ بعد ازاں یہ خواتین لیورپول کی مسلم برادری کی نمایاں شخصیات بن گئیں۔

فاطمہ کیٹس بعد میں لیورپول اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی ایک فعال اور نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئیں۔ انہوں نے فکری اور ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لیا جن کی گونج برطانیہ سے باہر بھی سنائی دی۔ ان کی بعض ادبی اور شعری تخلیقات بیرونِ ملک، خصوصاً برصغیر کے رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوئیں۔

ان کی ذاتی زندگی بھی مشکلات سے خالی نہ تھی۔ شادی کے دوران انہیں گھریلو مسائل اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے قانونی طور پر اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کی، حالانکہ اس زمانے میں برطانوی قوانین خواتین کے حقِ طلاق پر متعدد پابندیاں عائد کرتے تھے۔

1900ء میں فاطمہ کیٹس انفلوئنزا کے باعث نمونیا میں مبتلا ہوئیں اور اسی بیماری کے نتیجے میں وفات پا گئیں۔ انہیں لیورپول کے اینفیلڈ قبرستان میں اسلامی طریقے کے مطابق سپردِ خاک کیا گیا۔

کئی دہائیوں تک ان کی قبر نظرانداز رہی، تاہم 2022ء میں مقامی مسلم برادری کی کوششوں سے اس کی مرمت اور بحالی کا کام انجام دیا گیا۔

آج فاطمہ کیٹس کو برطانیہ میں اسلام کی تاریخ کی ایک پیش رو شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایسے دور میں اسلام کا تعارف اور اس کی اشاعت کی جب برطانوی معاشرہ مسلمانوں اور اسلامی تعلیمات سے زیادہ واقف نہیں تھا، اور یہی خدمات انہیں برطانیہ کی مسلم تاریخ میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔/

 

4357931

نظرات بینندگان
captcha