ایکنا نیوز نے یونیورسٹی آف سائنس اینڈ کلچر کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ’’میراثِ اربعین؛ عالمِ اسلام کی تمدنی شناخت کے استحکام کی بنیاد‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس تیسرے بین الاقوامی سوگوارے کا اہتمام یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ٹورازم، تہران میونسپلٹی کے سیاحتی ہیڈکوارٹر، فاخربوم ایکسیلیریٹر اور قومی عجائب گھر برائے انقلابِ اسلامی و دفاعِ مقدس کے تعاون سے کیا گیا، جبکہ متعدد علمی و ثقافتی ادارے بھی اس میں شریک تھے۔
اس پروگرام میں محققین، جامعات کے اساتذہ، ثقافتی کارکنان، شہری انتظامیہ کے ذمہ داران، فنکار، زیارتی سیاحت کے ماہرین، مواکب کے منتظمین اور اربعین اسٹڈیز سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ کلچر کے فیکلٹی آف ٹورازم کے ڈین سید سعید ہاشمی کے مطابق، اس سال کی کوشش یہ تھی کہ اربعین کو صرف ایک مذہبی رسم کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی، سماجی اور تمدنی ورثے کے طور پر بین الشعبہ جاتی (Interdisciplinary) نقطۂ نظر سے پیش کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ممتاز اساتذہ اور ماہرین کی شرکت سے متعدد فکری نشستیں منعقد کی گئیں، جن میں شہریوں کی اجتماعی یادداشت، شہری طرزِ زندگی، نسلی و ثقافتی تنوع، شہری سفارت کاری، مذہبی و آیینی فنون، زیارتی سیاحت، اربعین سے متعلق پالیسی سازی اور جدید اسلامی تہذیب کی تشکیل میں اس عظیم اجتماع کے کردار جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
یونیورسٹی آف سائنس اینڈ کلچر کے فاخربوم ایکسیلیریٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور سوگوارے کے سائنسی سیکریٹری نیک خواہ نے کہا کہ اس سوگوارے کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک محرم کے ایام میں منعقد ہونے والے ’’محرم گردی‘‘ کے عنوان سے خصوصی مطالعاتی و سیاحتی دورے تھے، جن کے دوران دارالحکومت تہران کے مختلف محلوں میں رائج مذہبی رسوم و روایات کا عملی مشاہدہ کرایا گیا۔ ان سرگرمیوں کا موضوعی ربط اربعینِ حسینی کے عظیم عالمی اجتماع سے خاص طور پر نمایاں تھا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سوگوارے کے روز ’’باشعور آیینی سماجی کردار‘‘ کے عنوان سے ایک خصوصی تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی، جس کا محور اربعین کے مواکب اور قافلوں کا انتظام و انصرام تھا۔ اس ورکشاپ کا مقصد اس شعبے سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ، عملی تجربات کی منتقلی اور ثقافتی انتظام کے جدید نمونوں کو متعارف کرانا تھا۔
نیک خواہ نے مزید کہا کہ ثقافتی و فنی پروگراموں کے تحت معروف شعرائے کرام کی شرکت سے آیینی شاعری کی ایک محفل بھی منعقد ہوئی، جس نے عاشورائی پیغام اور ثقافتِ اربعین کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ ایک خصوصی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں فن پارے، تصاویر، تہران شہر کی تصویری روایات، ثقافتی دستاویزات اور اربعین سے وابستہ عوامی و بین الاقوامی رسوم و روایات کی جھلکیاں پیش کی گئیں، تاکہ اس عظیم عوامی تحریک کے غیر مادی ثقافتی ورثے کو زائرین اور شرکاء کے سامنے نمایاں کیا جا سکے۔/
4367005