IQNA

11:02 - July 05, 2014
خبر کا کوڈ: 1425736
بین الاقوامی گروپ:ان دنوں جبکہ عراقی حکومت داعش جیسے تکفیری اور لاابالی دہشت گردوں سے نمٹنے میں مصروف ہے حسنی صرخی نے بھی موقع پر کربلا کو اپنے قبضہ میں کرنے کی غرض سے حملہ کر دیا لیکن سکیورٹی دستوں نے انہیں کربلا میں گھسنے نہیں دیا۔

ایکنا نیوز-شفقنا-سید محمد بن عبد الرضا بن محمد صرخی حسنی عراق کے شیعہ دینی طالب علموں میں سے ایک ہیں جو کاظمین میں پیدا ہوئے اور ان کی عمر۵۰ سال ہے۔

صرخی اس کے باوجود کہ زیادہ علمی سرمایہ نہیں رکھتے خود کو آیت اللہ شہید محمد باقر صدر اور آیت اللہ سید کاظم حائری کے شاگردوں میں سے پہچنواتے ہیں انہوں نے سن ۲۰۰۳ میں اپنی مرجعیت کا اعلان کیا اور اس کے بعد عراق میں کافی دینی اور سیاسی فعالیتیں انجام دینا شروع کیں۔

بعد از آں انہوں ںے خود کو’’ حسنی ہونے‘‘ اور امام زمانہ(ع) سے براہ راست رابطہ رکھنے کے عنوان سے معروف کر دیا اگر چہ انہوں نے خود واضح طور پر امام زمانہ(ع) سے رابطہ رکھنے کا دعویٰ نہیں کیا ہے لیکن ان کے مرید و موالی اس بات کے دعویدار ہیں۔

انہوں نے اپنی مرجعیت کے اعلان کے بعد جنوبی عراق کے شیعوں میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنا شروع کیا اور کثرت سے مرید بنانے میں مشغول ہو گئے ان کے اس کام سے عراق کے مراجع عظام نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا: ’’سید محمود حسنی صرخی مجتہد نہیں ہیں اور ہم ان پر کوئی اعتماد نہیں کرتے‘‘۔

حسنی صرخی کی افراطی اور انحرافی فعالیتیں

صرخی کے حامی اس کے علاوہ کہ مراجع عظام اور عراقی حکومت کی توہین کرتے رہے ہیں عراق میں دیگر افراطی اور انحرافی قسم کی فعالیتیں بھی انجام دیتے رہے ہیں اسی اثنا امریکی فوجیوں نے ان کے اہل کاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ۲۰۰۴ کے بعد سے وہ مخفی طور پر زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔

۲۰۰۶ میں صرخی کے حامیوں نے بصرہ میں ایران کے قونصل خانے پر حملہ کیا اور قونصل کی عمارت پر لگے ہوئے ایران کے پرچم کو اتار کر عراق کا پرچم لگا دیا اس کام کی وجہ یہ تھی کہ ایران کے عربی چینل الکوثر سے شیخ علی کورانی نے حسنی صرخی کے امام زمانہ(ع) سے رابطے کو جھٹلایا تھا۔

اسی طرح حسنی صرخی نے صدام کی نابودی کے بعد ۲۰۰۳ میں ’’جند السماء‘‘ کے نام سے ایک لشکر تیار کرنا شروع کیا جس کی رہبری ضیاء عبد الزہراء الکرعاوی کے سپرد کی۔ الکرعاوی نے عراق کے بعض علاقوں سے سادہ لوح افراد کو جمع کر کے ان کا لشکر تیار کیا اور ۲۰۰۶ میں ایام عاشورا میں نجف اشرف پر قبضے کے لیے نجف اشرف پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے بعد انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس افراطی گروہ کا مقصد یہ تھا کہ نجف اشرف پر قبضہ کر کے نجف میں موجود مراجع کو قتل کر دیں اور عراق کی رہبری حسنی صرخی کو حاصل ہو جائے۔ اس حملے کے بعد جند السماء کے بعض عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔

اسی سال کربلا کے خطیب جمعہ آیت اللہ سید مرتضی قزوینی پر حرم امام حسین (ع) سے باہر نکلتے ہی حملہ کیا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئے اور تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ ان پر حملہ کرنے والے صرخی کے حامی عناصر تھے۔

حسنی صرخی نے اس کے بعد عراق میں لوگوں اور مریدوں کو اپنی طرف جذب کرنے کی کوششیں تیز کر دیں یہاں تک کہ انہوں نے عراق کے تمام معروف شہروں بغداد، نجف، کربلا، بصرہ، حلہ، کرکوک، دیوانیہ، ناصریہ، وغیرہ کے علاوہ دمشق میں بھی اپنے دفاتر قائم کر دیے۔

۲۰۱۱ میں ناصریہ کے شمال مشرق میں واقع رفاعی علاقے میں بھی حسنی صرخی کی طرف سے قائم کردہ دفتر کے سامنے ناصریہ کے لوگوں نے دھرنا دیا اور اس دفتر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

حکومت کی طرف سے جواب نہ ملنے پر دھرنہ دینے والوں نے دفتر پر حملہ کر کے دفتر میں موجود چیزوں اور کتابوں کو باہر پھینک کر آگ لگا دی کہ حسنی صرخی کی کتابیں سماج میں تفرقہ اور نفاق پھیلا رہی ہیں اور ان کا دفتر علاقے کے لیے فتنہ و فساد کا مرکز ہے۔

کربلا پر حملہ

ان دنوں جبکہ عراقی حکومت داعش جیسے تکفیری اور لاابالی دہشتگردوں سے نمٹنے میں مصروف ہے حسنی صرخی نے بھی موقع پر کربلا کو اپنے قبضہ میں کرنے کی غرض سے حملہ کر دیا جسمیں ناکام ہوا اور سینکڑوں حامی سمیت گرفتار ہوئے۔

واضح رہے کہ دشمن ایک طرف سے تکفیری وہابیوں کو پیسہ اور اسلحہ دے کر اہل بیت کے ماننے والوں  کی جانوں کے پیچھے لگائے ہوئے ہے دوسری طرف سے خود سادہ لوح شیعوں کے درمیاں ایسے عناصر پیدا کر کے جو ان کے مقاصد کو پورا کریں ان  کے درمیان تفرقہ انگیزی کر رہا ہے تاکہ حقیقی اور خالص اسلام کے ماننے والوں کو ختم کرے لیکن خدا دشمنوں کو نابود کرے گا اور دین ناب محمدی کے ماننے والوں کو سرخرو اور سر افراز کرے گا۔

ٹیگس: عراق ، حسنی ، صرخی ، کربلاء
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: