IQNA

16:02 - April 04, 2018
خبر کا کوڈ: 3504402
بین الاقوامی گروپ:جماعت اسلامی پاکستان کے تحت ختم نبوت و اتحاد امت مشائخ کانفرنس میں علماء کرام نے مدارس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث نہیں۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق منصورہ میں ہونے والی ختم نبوت اور اتحاد امت مشائخ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و جبر کے خلاف عالمی دباؤ بڑھانے کے لیے فوری طور پر کشمیر کانفرنس اور خصوصی سفارتی مہم چلائی جائے۔

کانفرنس میں شریک علماء نے حکومت کی جانب سے 6 اپریل کو مقبوضہ کشمیر سے اظہار یکجہتی کا دن منانے کا خیر کیا۔

اعلامیے میں لاکھوں کشمیریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا گیا کہ علماء کرام خطبہ جمعہ میں بھارتی مظالم کی مزمت کریں۔

خیال رہے کہ 3 روز قبل بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے علاقے ضلع شوپیاں اور اسلام آباد میں سرچ آپریشن کے دوران کشمیریوں پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 17 نہتے کشمیری جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اس کے بعد کشمیریوں نے بھارتی فورسز کے خلاف احتجاج کیا تھا جبکہ قابض فوج نے جنازوں کو بھی نہیں بخشا تھا اور مظلوم نہتے کشمیریوں کے جنازوں پر بھی شیلنگ کردی تھی۔

یاد رہے کہ 17 کشمیریوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی فوج نے حریت قیادت کو بھی نظر بند کردیا تھا جبکہ وادی کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔

کانفرنس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس فوری طور پر بلایا جائے، اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی فوری رہائی کے لیے بھی کوششیں تیز کی جائیں۔

ختم نبوت اور اتحاد امت مشائخ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ حلف نامے میں ختم نبوت کی شق ختم کرنے کی کوشش کرنے کے معاملے پر تحقیقات کرنے والی راجا ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے۔

اس کے علاوہ اعلامیے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر، فلسطین، عراق، برما سمیت پورے عالم اسلام کے انتہائی تشویشناک حالات میں اتحاد امت کو وقت کا اہم تقاضہ قرار دیا گیا۔

ختم نبوت اور اتحاد امت مشائخ کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں علماء کرام اور دینی کارکنان کو ناجائز حراست میں لینے اور انہیں مہینوں غائب رکھنے کی بھی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ ایسے تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: