IQNA

7:08 - April 12, 2018
خبر کا کوڈ: 3504433
بین الاقوامی گروپ: امریکی تحقیق کاروں نے خبردارکیا ہے کہ بنگلہ دیش میں مہاجرین کیمپ میں مقیم روہنگیا بچے ہنگامی صورتحال کے لیے قائم کردہ بین الاقوامی معیار سے بھی زیادہ خون اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق امریکی ادارے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سے وابستہ محققین کا کہنا ہے کہ کٹپلانگ کے مہاجر کیمپ میں اکتوبر 2017 کے دوران 6 ماہ سے 5 سال کی عمر تک کے 269 بچوں کا معائنہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ میانمار فوج کی کارروائیوں کے سبب اگست 2017 سے اب تک تقریباََ 7لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں، جبکہ میانمار کی حکومت امریکا اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے نسل کشی کے الزامات کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے۔

ایک تحقیق میں 24 فیصد بچوں کو جسمانی جانچ پڑتال کے بعد خوراک کی شدید کمی کا شکارپایا گیا ہے، جس سے ان میں بیماریوں کے حملے اور اموات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

43 فیصد بچوں کو شروع سے خوراک کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ 48 فیصد بچے خون اور آئرن کی شدید کمی کے باعث اینیمیا میں مبتلا ہیں.

محققین کے مطابق خوراک کی کمی کے لیےقائم عالمی ہنگامی حد 15فیصد ہے، جبکہ خون کی کمی کے لیے 40 فیصد ہے، اس نکتے پر صحت عامہ کی صورتحال قابل تشویش سمجھی جاتی ہے اور فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل میں شائع شدہ تحقیق بتاتی ہے کہ بڑے پیمانے پر اینیمیا کے پھیلاؤ اورغذائیت کی کمی اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ مختلف طاقتور اجزاء پر مشتمل خوراک فراہم کی جائے، جبکہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی بھی ترغیب دینی ہوگی۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: