IQNA

18:09 - November 10, 2019
خبر کا کوڈ: 3506836
بین الاقوامی گروپ- وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زندگی کے تجربات میں حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کو ہی بہترین پایا اور ریاست مدینہ کی بات کرنا میری ذاتی زندگی کا تجربہ ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق اسلام آباد میں جشن میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں 'بین الاقوامی رحمتہ اللعالمین ﷺ کانفرنس' سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی میں جتنا مطالعہ کریں گے اسی قدر اندازہ ہوگا کہ جو علم حاصل کیا وہ کم ہے۔

 

عمران خان نے اپنی ذاتی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دوران تعلیم کبھی ایسا نہیں سوچا تھا کہ ہمارا رول ماڈل نبی کریم ﷺ کو ہونا چاہیے لیکن زندگی کے ذاتی تجربے نے اب یہ سیکھایا کہ آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ زندگی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ سب میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ رہا ہوں.

ان کا کہنا تھا کہ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنے مالی وسائل سے انسانوں کی خدمات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں جتنے بھی صوفیا کرام آئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کیا اور ہمیشہ انسانیت کی خدمات کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ نے فتح مکہ کے بعد تمام مخالفین کو معاف کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں جزا اور سزا کا نظام قائم ہوگا وہاں ترقی کے ثمرات کو کوئی نہیں روک سکتا۔

عمران خان نے کہا کہ بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، ناانصافی کی وجہ سے میرٹ کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور معاشرہ ترقی نہیں کرپاتا، ماضی میں تمام بڑی شخصیات نے انصاف اور تعلیم پر ہی زور دیا۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے میڈیا اور سیاست میں کرپٹ لوگ موجود ہیں جنہیں شکست دے کر لوگوں کی پوشیدہ صلاحیتوں کو ابھارنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ رحم کے نام پر این آر او دے کر معاشرے کا بیڑا غرق کردیا، مظلوم خاندانوں اور افراد پر حکم چلایا جاتا ہے، کرپٹ اور ظالم نظام کے خلاف جدوجہد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اصول پاکستان میں لاتا رہوں گا، قوم سے کہوں گا کہ آپ بھی اپنا کردار ادا کریں، ٹیکس ادا کریں اور رشوت سے گریز کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ کی بات الیکشن سے پہلے نہیں بعد میں کیں، میں نہیں چاہتا تھا کہ لوگ کہیں کہ ووٹ کے لیے ریاست مدینہ کی بات کررہا ہوں۔

عمران خان نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ حیات طیبہ ﷺ کو رول ماڈل بنا کر ہی بڑا انسان بنا جا سکتا ہے اور ریاست مدینہ کے سامنے دنیا کی سپر پاورز نے اپنے گھٹنے ٹیکے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: