
ایکنا نیوز کے مطابق تہران میں «عراقی بد امنی اور اسرائیل کا مفاد » کے عنوان سے نشست میں رکن پرلیمنٹ «ماجد غماس»، حزب فضیلت کے «علی الازیر جاوی» شریک تھے جسمیں فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کی گیی۔
ماجد غماس کا کہنا تھا کہ بعض ممالک اس بات سے خوش نہیں کہ انکے ساتھ ایک طاقتور عراق موجود رہے اور طاقتور جمہوری عراق کے اثرات ان پر پڑے۔
انکا کہنا تھا کہ سینچری ڈیل اور عراق میں بد امنی میں گہرا تعلق موجود ہے کیونکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ عراق کو فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے طور پر استعمال اور ایرانی مصنوعات کی جگہ اسرائیلی مصنوعات کو یہاں پر لائے۔
انکا کہنا تھا کہ تمام سازش میں امریکہ کا ہاتھ ظاہر ہے مگر امریکہ کو صدام کی شکست کے بعد یہاں پر جمہوری نظام اور پھر داعش کی شکست سے اندازہ ہوچکا ہے کہ عراق اب ان کے رہنے کی جگہ نہیں۔
انکا تھا کہ امریکہ کو اندازہ ہوچکا ہے کہ وہ عراق میں ناکام ہے اور دوسری جانب اسرائیل بھی عراق، ایران، شام، لبنان یمن کے حالات سے خطرہ محسوس کررہا ہے۔
غماس نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے چند حلیف ممالک کے ساتھ ملکر عراق کی صورتحال خراب کرنے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔
مسئله فلسطین؛ عراقی عوام کی اولین ترجیح

غماس نے عراقی عوام کی جانب سے فلسطین کی حمایت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: ۷۰ سالوں سے عراق عوام فلسطین کی حمایت کررہی ہے اور قبضے کے آغاز پر عراقی مجاہدین نے اسرائیل میں گوریلا کاروائیاں کی ہیں اور ان سب سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ عراق کے لیے نہایت اہم ہے۔
نشست سے دیگر اہم شخصیات اور بعض تجزیہ نگاروں نے بھی خطاب کیا اور عراق کے حالات پر سیاسی تجزیہ پیش کیا۔/
