IQNA

11:01 - May 20, 2020
خبر کا کوڈ: 3507662
تہران(ایکنا) بعض مغربی سفارت خانوں کی جانب سے ھمجنس پرستی کے پرچم لہرانے پر شدید اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔

یورپی یونین آفس میں رسمی طور پر گذشتہ دنوں ھمجنس پرستی کی حمایت کے حوالے سے پرچم لہرایا گیا تھا۔

 

اس توہین آمیز اقدام پر عراقی شخصیات نے اس کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی حرکت تمام تر عراقی اقدار کی خلاف ورزی ہے اور اسی حوالے سے عراقی عوام کی جانب سے اس پرچم کو احتجاج میں جلایا گیا تھا جسکی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

 

جماعت «الدعوه الاسلامیه» جسکی قیادت «نوری المالکی» کررہے ہیں کا کہنا تھا: ہم یورپی یونین اور برطانوی و کینیڈین سفارت میں اس پرچم کشائی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کو عراقی قوانین، آداب و رسوم اور اقدار کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ اخلاقی طور پر ان تمام افراد کو جو اس حرکت میں ملوث ہیں انکو سفارت خانوں سے معزول کیا جائے اور یہی عراقی اقدار اور قوانین کے احترام کا تقاضا ہے۔

 

عراقی مفتی اور دارالافتاء کے سربراہ شیخ «مهدی الصمیدعی»، نے ھمجنس پرستی کے پرچم لہرانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عراقی ملت اور مسلمانوں کی توہین اور اسلامی احکام سے جنگ کا اعلان ہے اور جن ممالک نے یہ کام کیا ہے وہ اس کے برے نتائیج دیکھ لیں گے۔

 

شیعہ مرجع تقلید آیت‌الله سیدکاظم الحائری نے بھی اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس عراق کی اسلامی پہچان کے لیے مضر قرار دیا۔

 

صدر تحریک اور پارٹی کے نمایندے «صباح الساعدی» نے یورپی یونین کو اعتراض  آمیز یاد داشت پیش کرتے ہوئے برطانیہ اور کینیڈا کے سفارت خانوں سے مطالبہ کیا اور کہا کہ اس«احمقانه رفتار» پر عراقی حکومت اور عوام سے معافی مانگے۔

 

یاد داشت میں کہا گیا ہے کہ یورپی آفس کے احمقانه اقدام نے عراقی عوام اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے احساسات کو مجروح کردیا ہے اور بالخصوص رمضان، جو خدا سے قربت کا مہینہ ہے اس مقدس ایام میں ایسی حرکت سے چشم پوشی کسی صورت ممکن نہیں۔

 

صدرت تحریک نے فوری معذرت اور معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے عراقی حکومت

اور پارلیمنٹ سے بھی مطالبہ کیا کہ اس حرکت پر سخت رد عمل دکھائے اور اس پر فوری نشست بلائی جائے۔/

3900037

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: