IQNA

7:30 - January 22, 2021
خبر کا کوڈ: 3508801
تہران(ایکنا) جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام " اسراِئیل نامنظور" مارچ میں عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ فلسطینی رھنما کا خطاب

کراچی میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے زیرانتظام 'اسرائیل نامنظور' مارچ ہوا، جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

جلسے سے بیت المقدس کے خطیب شیخ عکرمہ صبری، حماس کے رہنما اسمٰعیل ہانیہ، ڈاکٹر ہمام سعید نے ویڈیو خطاب کیا۔

 

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج اس اجمتاع کی وساطت سے اپنے فلسطینی بھائیوں کو واضح پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستانی قوم اپنے خون کے آخری قطرے تک آپ کے شانہ بشانہ رہے گی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ہم قدم بقدم، شانہ بشانہ آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب تک فلسطین کو آزادی نہیں ملتی، جب تک مسجد اقصیٰ کو یہودیوں کے پنجے سے آزادی نہیں ملتی پاکستان اور دنیا بھر کا کوئی مسلمان خاموش نہیں بیٹھے گا۔

پاکستانی قوم خون کے آخری قطرے تک فلسطینیوں کے ساتھ ہے، مولانا فضل الرحمٰن

انہوں نے کہا کہ کبھی بھی اپنے حکمرانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ فلسطین اور فلسطینی سرزمین کو نظر انداز کر کے اسرائیل کو تسلیم کریں۔

 

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا نہیں بلکہ امت مسلمہ کی نمائندگی کر رہا ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ شاہ فیصل مرحوم نے کہا تھا کہ تمام عرب بھی اگر اسرائیل کو تسلیم کرلیں لیکن ہم کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے اور اسی طرح بانی پاکستان نے کہا تھا کہ اسرائیل نے مسلمانوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپا ہے، ہم کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ آج امت مسلمہ ان آوازوں کو بھولی نہیں ہے، اس مؤقف کو ہم نے ہرگز بھلایا نہیں ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ 1940 میں پاکستان بھی نہیں بنا تھا اور اسرائیل بھی وجود میں نہیں آیا تھا اور جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی تو یہ بات قرار داد پاکستان کا حصہ ہے، جب بانی پاکستان نے کہا تھا کہ یہودی فلسطینی زمینوں میں اپنی بستیاں قائم کر رہے ہیں اور اپنی آبادیاں بنا رہے ہیں لیکن ہم اس عمل کو تسلیم نہیں کرتے، یہ فلسطینی سرزمین پر قبضے کا آغاز ہے۔

 

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ مؤقف 1940 کی قرار داد میں اپنایا گیا اور جو پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے تو یہ قرار داد اسرائیل کو مسترد کرنے کی بھی بنیاد بن سکتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ہم 1940 کی قرار داد کے تحت پاکستان کے وفادار ہوسکتے ہیں تو پھر ہم اس بات کا بھی پابند ہیں کہ ہم اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ جب اسرائیل بنا تو پہلے وزیراعظم نے اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد یہی رکھی تھی کہ دنیا میں ایک نوزائیدہ مسلم ملک کو ختم کرنا اسرائیل کی پہلی ترجیح ہوگی اور دنیا میں اس وقت پیدا ہونے والا ملک پاکستان تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ جس ملک کا آغاز اور بنیاد اس تصور پر ہو کہ وہ پاکستان کا خاتمہ چاہتا ہو کیااس ملک کو تسلیم کرنا پاکستان سے وفاداری ہوسکتی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم پاکستان کے وفا دار ہیں تو پھر ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے اور اگر ہم پاکستان کےغدار ہیں تو پھر اسرائیل کو تسلیم کرلینا ہے۔

 

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر ہم بانی پاکستان کے نظریات کو پاکستان کی اساس قرار دیتے ہیں تو اس کی بنیاد پر پاکستان نے اقوام متحدہ میں سب سے پہلے اپنا مؤقف فلسطینیوں کی آزادی اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے حوالے سے تھے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ ظفراللہ خان نے پاکستان کے سرکاری مؤقف کے بر خلاف اسرائیل سے پنگیں بڑھانے کی کوششیں کی تھیں اور مصر میں جا کر کہا تھا کہ میں اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کا جزو دیکھنا چاہتا ہوں۔

1152179

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: