IQNA

10:07 - May 11, 2021
خبر کا کوڈ: 3509269
تہران(ایکنا) انڈونیشیاء کی «سوده ثابته» جو ماں کے پیٹ سے ہی قرآن سے مانوس ہوئی تھی۔

مصری میڈیا کے مطابق انڈونیشیاء کی جوان حافظہ سودہ ثابتہ قرآن سے آشنائی کے حوالے سے کہتا ہے کہ وہ زندگی کے ابتدائی ایام یعنی جب وہ ماں کی پیٹ میں تھی قرآن سے مانوس ہوچکی تھی۔

 

انکا کہنا تھا کہ انکی ماں جب وہ حاملہ تھی بلند آواز سے تلاوت قرآن کرتی رہتی تھی اور گویا وہ اپنی اولاد کو آیات الھی کے عشق سے مانوس کرانے کی کوشش کرتی تھی۔

 

سودہ کی ماں نے انکی ولادت کے بعد آپنی آرزو کی تکمیل کی اور انکو قرآن سیکھانے پر کام کیا اور اس حوالے سے سودہ کا کہنا تھا: میری ماں نے درس قرآن میں خوب مدد کی اور انکا تعاون تھا کہ میں قرآن کی طرف مائل ہوِئی۔

 سودہ سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کرچکی تھی اور انہوں نے انڈونیشیاء مین حفظ کے خصوصی اصولوں سے کام لیا اور ہر صفحے کو الگ بغیر کسی کے مدد کے تیزی سے حفظ کیا۔

 

سوده ثابته نے مصر کے پورٹ سعید قرآنی مقابلوں کے خواتین والے حصے میں تیسری پوزیشن حاصل کی  اور متعدد امتحانات میں شرکت کی ہے۔ انکا کہنا تھا مقابلوں اور امتحانات میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی اور مجھے قرآن سے خاص انسیت اور سکون ملتا۔

 

ثابتہ کا کہنا تھا کہ مستقبل میں حفظ کے حوالے سے کافی پروگرام ہے اور اپنے حوالے سے کتاب لکھنے کا ارادہ ہے، انکا کہنا تھا کہ ماں کے ساتھ تعلق اور حفظ قران پر کتاب کی شکل دے جائے گی اور وہ مستبقل میں روش عشرہ پر تسلط حاصل کرنے کی خواہشمند ہے تاکہ مفاہیم قرآن اور علم وقف و ابتدا پر بھی انکو عبورہو۔/

3970650

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: