IQNA

10:19 - September 16, 2021
خبر کا کوڈ: 3510238
افغان طالبان کا حکومت بنانا یقینی طور پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر شدت پسندوں کو پاکستان میں متاثر کرے گا ، گفتگو
سوشل میڈیا کے مطابق سابق وزیر داخلہ اور چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف ریسرچ اینڈ ریفارمز (آئی آر آر) سینیٹر رحمان ملک نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ طالبان کےافغانستان میں حکومت بنانے کے بعد پاکستان میں کچھ مذہبی گروہ شرعی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ و کوشش کر سکتے ہیں لہذا حکومت صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی پہلے سے تیار رکھے۔
 
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کا حکومت بنانا یقینی طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسندوں کو پاکستان میں متاثر کرے گا کیونکہ ٹی ٹی پی مکمل طور پر پاک افغان سرحد پر کام کر رہی ہے اور داعش کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ طالبان کا افغانستان پر قبضہ کچھ مذہبی دھڑوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کیونکہ افغان طالبان اورپاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کے نظریات مطابقت رکھتے ہیں۔
 
 
انہوں نے کہا کہ داعش اور طالبان کی جانب سے بنیاد پرستی کا ناسور نوجوان نسل کے خاص طور پر مدارس کے طلباء میں پھیلنے کا خدشہ ہے اور اس کے بدترین اثرات سابق فاٹا اور بلوچستان پر ہوں گے جہاںبھارت اور مغربی طاقتیں پہلے ہی پاکستان مخالف سازشیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقتا فوقتا پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے بارے میں وہ خبردار کرتے رہے ہیں۔
 
انھوں نے کہا کہ انتہاپسندی اور دھشتگردی کی جڑیں سوویت یونین اورافغانستان کے درمیان جنگ سے جاکر ملتی ہیں۔ رحمان ملک نے کہا کہ جب پاکستان نے سابقہ سوویت یونین اور افغانستان کے درمیان جنگ کے دوران جہاد میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں جہادی سوویت یونین سے لڑنے کے لیے ہمارے ملک میں اترے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب جنگ ختم ہوئی تو اس علاقے میں 300 مذہبی مدرسے تھیں اور جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو یہ تعداد 23 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
 
انہوں نے کہا کہ حالانکہ تمام مدارس دہشت گردی میں ملوث نہیں تھے لیکن ان میں پڑھنے والوں کی برین واش کرنے کی کوشش کی گئی اور مذہب اور غربت کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو 15 ہزار سے 20 ہزار روپے میں بھرتی کیا گیا تھا اور انہیں خودکش حملہ آور کے طور پر کام کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کچھ مدارس سے ابھری ہے اور طالبان کے دونوں مضبوط دھڑے کے طلبائ اکوڑہ خٹک کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں طلباء کو ایک خاص نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ کریڈٹ ہماری فورسز کو جاتا ہے جو دہشت گردی سے نمٹنے میں کامیاب رہے اور پاکستان میں خودکش حملہ آوروں کی تعدد بتدریج کم ہوتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بنیاد پرستی کا پہلا مرحلہ اس وقت شروع ہوا جب ہم نے پراکسی وار کی اجازت دی اور مدارس کی دوڑ مختلف مذہبی مکاتب فکر نے شروع کی جن میں سے کچھ کو ہمارے اسلامی دوست اور بعض ہمسایہ ممالک نے سپورٹ کیا۔
 
سابق وزیر داخلہ نے زور دیا کہ ہمیں ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام کی ضرورت ہے اور وہ بین المذاہب ہم آہنگی کے بہت مضبوط حامی ہیں کیونکہ اگر مذہب کی بنیاد پر تصادم ہوا تو تہذیبوں کا تصادم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے تمام مذہبی دھڑوں اور فرقوں کے علمائ کو ایک نصاب پر متفق کر دیا تھا اور اسے نیشنل ایکشن پلان کی اعلیٰ ترین باڈی کے سامنے رکھا گیا تھا لیکن یہ معاہدہ تمام سیاسی جماعتوں اور تمام فرقوں کی اتفاق رائے کے باوجود ابھی تک نافذ نہیں ہوا جو بنیاد پرستی کو کم کرنے کے لیے ہمارے غیر سنجیدہ قومی رویوں کو ظاہر کرتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر بطور وزیر داخلہ انھوں مے، مفتی منیب الرحمن ، قاری محمد حنیف جالندھری، ڈاکٹر یاسین غفاری، مولانا عبدالمالک اور مولانا نیاز حسین نقوی نے دستخط کئے تھے جسکا مسودہ آج بھی وزارت داخلہ کے پاس موجود ہے۔ رحمان ملک نے اس بات پر زور دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اگر معاہدے کو قانون سازی میں تبدیل کیا جائے تو یہ ملک میں فرقہ وارانہ مذہبی ہم آہنگی کو بڑھانے اور انتہاپسندی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوگی۔
نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: