IQNA

6:08 - March 21, 2022
خبر کا کوڈ: 3511538
تہران(ایکنا) کتاب «مثنوی» فارسی شاعری کے ایک طرز و قالب کا عنوان ہے جو رایج شاعری کتب سے مکمل مختلف ہے۔

ایکنا نیوز کے مطابق مثنوی پر تحقیق کرنے والے محمدعلی موحد نے «مثنوی» کی عجیب ساخت و کتاب پر کام کیا ہے جسکا خلاصہ حاضر خدمت ہے:

«مثنوی»  کا نام عجیب ہے اور مولف کا قرآنی نکتہ نگاہ ہے اور متن میں ہم پڑھتے ہیں «مثنوی» اصول دین پر استوار ہے۔

«مثنوی» کتاب کا نام نہیں بلکہ شعر فارسی کا ایک نوع ہے ۔ اس قسم کی شاعری مختلف قالبوں اورکتابوں مثلا شاہنامہ، ویس و رامین، منطق الطیر، بوستان اور اسرارنامہ میں موجود ہے اور عجیب ہے کہ کوئی کتاب لکھے اور اسکا نام مثنوی رکھے۔

مقدمے میں ہم حیرت میں پڑتے ہیں جب مصنف خود اپنی کتاب کو واضح کنندہ قرآن بلکہ قرآنی کتاب قرار دیتے ہیں اور جس طرز کا قلم قرآن کے لیے استعمال ہوا ہے اسی طرح پر مثنوی کی تکرار ہوئی ہے۔

 

: «جیسے خدا فرمایا ہے کہ اس کتاب سے کافی لوگ ہدایت پاتے ہیں اور بہت سے لوگ گمراہ (آیت 2 سوره 26)، نجیب اور نیکوکار فرشتوں کے ہاتھوں (آیت 15-16، سوره 80)، پاک لوگ لوگ کے سوا کوئی ہدایت نہیں پاتے، تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ (آیات 79-80 سوره 56)، اس کے سامنے اور پیچھے سے باطل نہیں آتے (آیه 42 سوره 41)».

 

کچھ سوچتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن کا نام بھی عجیب ہے جو روح الامین قلب محمد(ص) پر اتارتا ہے«قرآن» نام رکھا گیا جس کا معنی پڑھنا ہے. لیکن قرآن کے کچھ اور نام بھی ہے جس میں اہم ترین «کتاب» ہے. اگر الفاظ کی فہرست کو دیکھے تو کلمہ " کتاب" کلمہ " قرآن" سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔ کتاب کا معنی لکھنا ہے لہذا ہماری مقدس کتاب کبھی لکھنے اور کبھی پڑھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے اسی طرح وافر مقدار میں مثنویوں کے مقابل جیسے شاھنامہ، بوستان، اسرار نامہ وغییرہ میں کتاب خاص «مثنوی» کو کہا گیا ہے۔

 

 قرآن کا ایک اور نام بھی ہے جو مثنوی سے ملتا ہے جو ہمیں فکر کی دعوت دیتا ہے، قرآن کی دو آیتوں میں

«مثانی» سے یاد کی گیی ہے، ان میں سے ایک «وَ لَقَدْ آتَیْناکَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِى وَالْقُرْءَانَ الْعَظِیمَ» (حجر /۸۷) اور دوسری آیت «اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا مَثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ» (زمر/۲۳). اور عجیب بات ہے کہ مثانی بھی لغوی معنوں میں «مثنوی» به معنی «زوج» اور «دوگانه» اور بنیادی طور پر «تکرار» کے معنوں میں بیان ہوا ہے۔

مولانا کی کتاب مثنوی بھی زوج ہونے کے حوالے سے ابیات اور قافیوں کے حوالے سے جڑواں یا زوج ہے اگرچہ یہ اس شاعری کی ظاہری ساخت و شکل ہے تاہم معنی و مفہوم کے حوالے سے بھی «صورت - معنی»، «ظاهر - باطن»، «دنیا – آخرت»، «جسم – جان»، «حیات – موت»، «ایمان – كفر»، «ارض – سما»، «جبر – اختیار»، «نور – ظلمت» و ... مثنوی میں مختلف معنوں میں ذکر ہوا ہے.

مثنوی، (جو مثنوی معنوی یا مثنوی مولوی کے نام سے معروف ہے)، مولانا جلال‌الدین محمد بلخی(1207-1273)، کی معروف شاعری کی کتاب کا نام ہے جو مولانا رومی یا روم، ایرانی شاعر ہے جس کی کتاب 26000 بیت اور ۶ جلدوں پر مشتمل ہے جو  ادبیات عرفانی ، قدیم فارسی و حکمت پارسی کی دنیا میں بہترین کتب شمار کی جاتی ہے۔

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: