IQNA

«اکبر القراء» کی یاد؛

شیخ مصطفی اسماعیل؛ تلاوت میں بے مثال + ویڈیو

8:00 - June 18, 2022
خبر کا کوڈ: 3512087
تہران ایکنا: مصطفی محمد المرسی ابراهیم اسماعیل، جو شیخ مصطفی اسماعیل کے نام سے مشہور تھا انکو اکبرالقراء کہا جاتا ہے اور انکی وفات سے اس فن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

ایکنا نیوز کے مطابق سترہ جون کو دنیائے تلاوت کے عظیم قاری شیخ مصطفی اسماعیل کی ولادت کا دن ہے آپ سال 1905 کو مصر میں پید اہوئے اور انکو «اکبر القراء» کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔

 

 

بچین کی شرارتوں سے  حفظ قرآن تک

دو شرارتی بچے ہر دن مصری گاوں میں شیخ عبدالرحمن النجار کے مدرسے سے بھاگ جاتے تھے اور سات کیلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے میت غزال سے الدفرہ گاوں جاتے اور وہاں بچوں کے ساتھ کھیل کود میں لگ جاتے۔

ان میں سے ایک بچے کا تعلق چونکہ قرآن مجید سے تھا لہذا ان دو بچوں (ابراهیم الشال اور مصطفی اسماعیل) کو واپس مدرسہ پہنچاتے تاکہ استاد انکو باندھ کر سزا دیں۔

ان شرارتوں کے ساتھ مصطفی اسماعیل نے بارہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تاہم مدرسہ انکی بہترین تلاوت کی صلاحیت اور آواز کی وجہ سے انکے ساتھ زیادہ سختی نہیں کرتا اور انہیں کھلینے دیتا۔

 

شیخ مصطفی اسماعیل؛ تلاوت میں بے مثال + ویڈیو

نامور قرآء سے آشنائی اور ملک فاروق سے تحفہ

مصطفی اسماعیل انہیں دنوں اتفاقی طور پر شیخ محمد رفعت سے ملتا ہے اور انکے سامنے تلاوت کرتا ہے، استاد محمد رفعت انکی تلاوت کو سراہتا ہے اور  مصطفی اسماعیل کو نصیحت کرتے ہیں کہ  قواعد تجوید اور فن تلاوت کی طرف توجہ کرے لہذا وہ اس کو مان جاتا ہے اور اصول تجوید کے لیے شیخ محمود حشیش کے پاس درس کے لیے جاتے ہیں۔

جس دن مصطفی اسماعیل ٹرین پر سوار ہوتا ہے تاکہ وہ طنطا سے قاهره سے جائے تو انکے ذہن میں قاهره کے حوالے سے کافی سوالات ہوتے ہیں وہ ریڈیو چینل پر جاکر تلاوت کرتے جہاں انکو انکے استاد نے دعوت دی تھی، اس پروگرام میں شیخ فتاح الشعشاعی کو تلاوت کرنی تھی تاکہ شیخ مصطفی اسماعیل بھی اس تلاوت کو سنتے اتفاق سے مذکورہ استاد کو سخت زکام ہوا  اور دوسروں نے کہا کہ اس دن شیخ مصطفی اسماعیل ہی تلاوت کرے۔

شیخ مصطفی اسماعیل نے آدھے گھنٹے تک سورہ تحریم کی وہاں تلاوت کی، تلاوت کے بعد لوگوں کو ہجوم انکی طرف بڑھا اور ان سے اظھار عقیدت کرنے لگے اور مصری بادشاہ ملک فاروق نے انکی تلاوت کو سراہا اور انہیں شاہی قاری کا اعزاز بخشا حالانکہ اب تک انہیں ریڈیو پر بھی پکی نوکری نہیں ملی تھی اور ایسا شاندار واقعہ رونما ہوا۔

 

استاد اسماعیل کو تحفے میں تسبیح کا واقعہ

مصری بادشاہ ملک فارق کی جانب سے مصطفی اسماعیل کو تحفے میں تسبیج پیش کرنا بتاتا ہے کہ اہل سیاست کو اس قاری پر اعتماد تھا. علی عبدالعزیز جنکی اسکندریه میں بڑی دکان ہے انکا کہنا تھا کہ (شیخ مصطفی اسماعیل) کو دیا گیا تسبیح قیمتی پتھروں کا ہے۔

 

بعد میں جب  شیخ مصطفی اسماعیل کے ایک نواسے نے اس تسبیح کو بازار میں بیچنا چاہا اور اس دکان دار نے جو انتھک چیزوں کو جمع کرنے کا شوقین تھا انہوں نے اس کو خریدا۔

 

سیاست دانوں کی مصطفی اسماعیل پر نظر

انہیں دنوں ایک معروف سیاست دان جو جیل میں تھا وہ شیخ مصطفی اسماعیل کی تلاوت کا گرویدہ ہوجاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ وہ مصطفی اسماعیل کی طرح تلاوت کرے تاکہ قید میں اسکی روح کو سکون مل سکے، بعد میں وہ قیدی (محمد انور سادات) مصری صدر بنتا ہے۔

ایک بادشاہ ملک فاروق اسے تحفے میں تسبیح پیش کرکے اس صدارتی قاری بناتا ہے اور ایک اس کی تقلید کرتا ہے بعد میں مصطفی اسماعیل کو مصری صدر عبدالناصر اور ایک اور صدر انوار سادات کی بھی اس پر عنایت ہوتی ہے اور وہ قدس کے سفر میں اسکو ساتھ لے جاتے ہیں۔

شیخ مصطفی اسماعیل ۲۲ دسمبر ۱۹۷۸ کو دنیا سے رخصت ہوتے ہیں مگر وہ ایک خاص انداز اور طرز بنا کر جاتا ہے اور  ۱۳۰۰ تلاوت یادگار چھوڑ جاتے ہیں اور اب بھی مشرق و مغرب میں انکی تلاوت کانوں کو حلاوت بخشتی ہے۔

 

ذیل میں  استاد اسماعیل را کی ویڈیو تلاوت موجود ہے جسمیں وہ آیات ۳۰ تا ۳۶ سوره مبارکه مریم کی تلاوت کرتے ہیں۔

ویڈیو کا کوڈ

 

متن و ترجمه آیات ۳۰ تا ۳۶ سوره مبارکه مریم(س)

 قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ﴿۳۰﴾

[نومولود] نے کہا کہ میں خدا کا بندہ ہو اور مجھے کتاب دی گیی ہے (۳۰)

وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنْتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ﴿۳۱﴾

اور جہاں رہو مجھے بابرکت بنایا گیا ہے اور جب تک زندہ ہوں مجھے نماز اور زکات کی تاکید کی گیی ہے (۳۱)

وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا ﴿۳۲﴾

اور مجھے ماں کی نسبت فرمانبردار بنایا گیا اور میں نافرمان نہیں (۳۲)

وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدْتُ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا ﴿۳۳﴾

اور مجھ پر درود جس دن آیا اور جس دن جاونگا اور جس دن  دوبارہ اٹھایا جاونگا (۳۳)

ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ ﴿۳۴﴾

یہ ہے [ماجرا] عيسى فرزند مريم [وہی] جس کے سچ میں شک کرتے ہیں (۳۴)

مَا كَانَ لِلَّهِ أَنْ يَتَّخِذَ مِنْ وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ﴿۳۵﴾

خدا کو زیب نہیں دیتا کہ وہ فرزند بنایے وہ جس چیز کا اشارہ کرے اور کہے ہوجا وہ ہوجاتا ہے (۳۵)

وَإِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ ﴿۳۶﴾

حقيقت میں وہ ‏خدا ہے میرا اور تمھارا  اور اسکی کری پرستش کرو وہ سیدھا راستہ ہے (۳۶)

رپورٹ: میترا فرهادی

4064785

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* :