ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "الکومپس" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ تحقیق Jonas Alwall، جو مذہب کی سماجیات، بین الاقوامی ہجرت اور نسلی تعلقات کے شعبے کے پروفیسر اور محقق ہیں، اور ان کی تحقیقی معاون ایلا کلاوسن نے مالمو یونیورسٹی میں انجام دی۔ تحقیق میں مالمو میں اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف تعصب کے تسلسل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
مطالعے کے مطابق، اگرچہ مسلمان سویڈن کے مختلف شہروں میں نمایاں موجودگی رکھتے ہیں، اس کے باوجود انہیں روزمرہ زندگی میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسلاموفوبیا کی مختلف صورتیں نہ صرف مسلمانوں کے سماجی تعلقات کو متاثر کرتی ہیں بلکہ ان کے روزگار کے مواقع، معاشرتی وابستگی کے احساس اور اپنے اردگرد کے ماحول پر اعتماد کو بھی کمزور بناتی ہیں۔
یہ تحقیق مالمو شہر کے اُس منصوبے کا پہلا مرحلہ ہے جو 2026 سے 2029 تک اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف نسل پرستی کے خلاف اقدامات کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد پالیسی سازی اور مؤثر حکمتِ عملیوں کے لیے سائنسی شواہد اور اعداد و شمار فراہم کرنا ہے۔
یوناس آلوال کے مطابق، مالمو کے مسلمان سویڈن کے بعض دیگر علاقوں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالات میں رہتے ہیں، لیکن پھر بھی انہیں اسکولوں، دفاتر اور عوامی مقامات پر مختلف قسم کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان رویّوں میں توہین آمیز تبصرے، منفی نگاہیں، غیر مساوی برتاؤ اور امتیازی اقدامات شامل ہیں، جن کا بہت سے مسلمان بار بار تجربہ کرتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مسلم مخالف تعصب صرف انفرادی رویّوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساختیاتی پہلو بھی موجود ہیں۔ کئی مواقع پر افراد کا اسلامی پس منظر یا ایسے نام جو مسلم شناخت کی نشاندہی کرتے ہوں، ملازمت کے حصول اور لیبر مارکیٹ تک رسائی پر منفی اثر ڈالتے ہیں، جس کے وسیع معاشی اور سماجی نتائج سامنے آتے ہیں۔
محققین کے مطابق، اسلاموفوبیا کی مختلف شکلیں معاشرے میں رائج ہیں اور یہ مسلمانوں میں عدم تحفظ، خوف اور سماجی اعتماد میں کمی کے احساسات کو بڑھاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رویّے ہمیشہ کھلے اور براہِ راست نہیں ہوتے بلکہ اکثر پوشیدہ اور بالواسطہ انداز میں ظاہر ہوتے ہیں، تاہم ان کا تسلسل بتدریج مسلمانوں کے اپنے شہر اور معاشرے سے تعلق کے احساس کو کمزور کر دیتا ہے۔
تحقیق کے ایک حصے میں مالمو کے مسلمانوں کے انٹرویوز کا جائزہ لیا گیا، جس میں بیشتر شرکاء نے یہ رائے دی کہ حالیہ برسوں میں سویڈن کا سیاسی اور میڈیا ماحول مسلمانوں کے حوالے سے زیادہ سخت گیر اور منفی ہو گیا ہے۔
مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلاموفوبیا کے اثرات صرف ان افراد تک محدود نہیں رہتے جو خود کو مسلمان قرار دیتے ہیں، بلکہ بعض اوقات وہ لوگ بھی اس کا نشانہ بنتے ہیں جنہیں صرف ان کے نام، ظاہری شکل یا ثقافتی پس منظر کی وجہ سے مسلمان سمجھ لیا جاتا ہے۔
یوناس آلوال نے زور دیا کہ "اسلاموفوبیا" اب بھی عوامی سطح اور اسلامی تنظیموں کے درمیان سب سے زیادہ معروف اور رائج اصطلاح ہے، جس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف تعصب اور امتیازی سلوک کی مختلف صورتوں کو بیان کیا جاتا ہے۔/
4359129