IQNA

7:12 - April 24, 2018
خبر کا کوڈ: 3504481
بین الاقوامی گروپ: تہران میں جاری بین الاقوامی قرآنی مقابلوں میں شریک ناروے کی طالبہ کے مطابق ناروے کی مختلف مساجد میں قرآنی کلاسز منعقد ہوتی ہیں

اسماء عدره ایکنا سے گفتگو میں؛ناروے کے مسلمانوں میں قرآن کی اہمیت/ والد کے مدرسے کی طالبہ

ایکنا نیوز- تہران میں جاری پینتیسویں قرآنی مقابلوں کے خواتین مقابلوں میں شریک پچیس سالہ حافظہ اسماء فادی عدره نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا : میرا تعلق اصل میں لبنان سے ہے اور بارہ سال کی عمر میں والد کی مدد سے قرآن حفظ کیا ۔

 

اسماء کا کہنا تھا : میرا والد مسجد کا امام ہے اور صحیح معنوں میں میرا استاد میرے والد ہیں ۔

 

اسماء کے مطابق اس سے پہلے وہ امارات مقابلوں میں پانچویں پوزیشن حاصل کرچکی ہے۔

 

ایران-امارات قرآنی مقابلہ

 

اسماء عدره کا کہنا تھا کہ دبیی قرآنی مقابلوں اور ایران مقابلوں میں مقابلہ کیا جائے تو کہنا پڑے گا کہ ایران اس حوالے سے کافی ترقی کرچکا ہے

 

عدره کے مطابق اگرچہ دبیی مقابلوں کو عالمی سطح پر شہرت حاصل ہے مگر ایرانی مقابلوں کو کسی طور کم نہیں کہا جاسکتا۔.

 

ناروے کی حافظہ کے مطابق ناروے کی بہت سی مساجد میں قرآنی کلاسز منعقد ہوتی ہیں۔

 

انکا کہنا تھا کہ ناروے کی حکومت آزادی عقاید کو اہمیت دیتی ہے اور کسی کو مسلکی عبادات میں مشکل درپیش نہیں۔

 

اسماء نے ایران کو پرامن اور ایرانی عوام کو مہمان نواز قرار دیا ۔

 

الحُصَری روش پسندیدہ

 

ناروے کی حافظہ کا کہنا ہے: اگرچہ تمام معروف مصری قرآء کی تلاوت اور طریقہ نایاب ہے مگر تلاوت میں محمود خلیل الحُصَری کا طریقہ سب س زیادہ میرے لیے پسندیدہ ہے

 

 

آن لاین تدریس قرآن۔ اچھا یا نہیں؟

 

ناروے کی حافظہ کا کہنا تھا: آن لاین طریقے سے بھی استادہ بچوں کو قرآن سکھاتا ہے اور ہر سوال کا جواب آسانی سے دیا جاسکتا ہے مگر جو معیار اور نزاکت برراہ راست استاد کی موجودگی میں موجود ہوتی ہے وہ آن لاین میں ممکن نہیں۔

 

اسماء عدره کے مطابق آن لاین قرآن بھی اچھی کاوش ہے مگروہ اس طریقے کو استاد کی موجودگی سے کمتر سمجھتی ہے۔

 

اسماء نے اس امید کا اظھار کیا کہ وہ مقابلے میں پوزیشن لینے میں کامیاب ہوگی۔/

http://iqna.ir/fa/news/3708173

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: