IQNA

21:02 - April 26, 2018
خبر کا کوڈ: 3504493
بین الاقوامی گروپ:کئی یورپی ممالک مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر چکے ہیں اور اب اذان کے بھی درپے ہو گئے ہیں

ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق کئی یورپی ممالک مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر چکے ہیں اور اب اذان کے بھی درپے ہو گئے ہیں۔ اس اقدام میں ناروے پہل کرنے جا رہا ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق پراگریس پارٹی،جو اس وقت ایک اور پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کر رہی ہے، اذان کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ پراگریس پارٹی سرے سے امیگریشن ہی کی مخالف ہے اور رواں ہفتے کے اختتام پر اس کی ایک پارٹی میٹنگ ہونے جا رہی ہے جس میں اذان پر پابندی کے قانون پر ووٹنگ کی جائے گی۔

پراگریس پارٹی کے شعبہ امیگریشن کے ترجمان جان ہیلگھیم کا کہنا ہے کہ ”اذان پر پابندی کے حوالے سے انسانی حقوق کیا کہتے ہیں، ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ ہمیں اگر پروا ہے تو ناروے کے شہریوں کے امن و سکون کی ہے۔ ہم یورپین کنونشن کے انسانی حقوق کے اس قانون کو مسترد کرتے ہیں جو لاﺅڈ سپیکرز پر مذہبی اعلانات پر پابندی سے روکتا ہے۔میرے خیال میں یہ قانون ہی احمقانہ ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں سکون اور خاموشی چاہیے اور اس کے لیے اذان پر پابندی لگانا بہت ضروری ہے۔“

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: