IQNA

9:52 - September 07, 2020
خبر کا کوڈ: 3508181
مانسہرہ گڑھی حبیب اللہ تھانے میں قانون کے رکھوالوں نے خود ہی قانون کی دھجیاں اڑا دیں !!

 گذشتہ کل مورخہ  5 ستمبر 2020 کو مانسہرہ شہر میں  ملکی تاریخ کا ایک سیاہ ترین  واقعہ پیش آیا ،جس میں ایک  سترہ سالہ نوجوان کو   توہین امیر شام اور توہین ابو سفیان کے بے بنیاد الزام کی بنیاد پر تھانے لے جا کر زبردستی  اور جان سے مار دینے کی دھمکی کی ساتھ پیروان اہل بیت کافر کے نعرے لگوائے گئے اور  ساتھ ساتھ شیعہ مقدسات اور اہم شخصیات  پر لعن طعن کروائی گئی،یہ ویڈیو  آن کی آن میں سوشل میڈیا پر بہت بڑی تعداد میں وائرل ہوئی اوراس کو دیکھ کر ہر ذی شعور اور معتدل  مسلمان کا سر  شرم سے جھک گیا ،کیونکہ ویڈیو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ یہ انڈیا کا کوئی شہر ہے جس میں  ہندو انتہا پسند  غنڈے طاقت کے زور پر مخالف مذہب کے افراد پر ظلم و ستم کررہے ہوں ،

صارفین نے واقعہ پر افسوس کا اظھار کرتے ہوئے کہا کہ آخر ان واقعات اور ہمسایہ ملک میں ہونے والے واقعات جن میں زبردستی کسی مسلمان سے کہا جاتا ہے کہ کہو جے کرشنا جے ہری رام میں کیا فرق ہے؟

اور  جو چیز سب سے زیادہ حیرت کا باعث بنی وہ  یہ کہ یہ سارا  واقعہ نہ صرف خود پولیس کی زیر نگرانی  میں وقوع پزیر ہوا بلکہ خود ڈی ایس پی اور ایس ایچ او   بھی اس  قبیح فعل میں  ملوث نظر آئے۔

صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس سے پہلے یہ فرقہ واریت کی یہ آگ مزید پھیل جائے اور خدا نخواستہ اس سے زیادہ بڑھ کر کوئی  اور  نا خوشگوار واقعہ پیش آئے  اس وحشی گری اور  بربریت  کا سد باب کیا جائے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ آئندہ کسی بھی سر پھرے  کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی جراءت نہ ہو ۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: