IQNA

8:02 - September 23, 2020
خبر کا کوڈ: 3508250
تہران(ایکنا) سوڈانی حکام نے تائید کی ہے کہ امریکہ و امارات ابوظبی میں سوڈانی مقامات سے مذاکرات کررہے ہیں تاکہ دس ارب ڈالر کی مدد کے بدلے انکو اسرائیل تسلیم کرنے پر آمادہ کرسکے۔

الجزیرہ کے مطابق سوڈانی وفد قایم مقام حکومت کے سربراہ «عبدالفتاح البرهان»، ، وزیر انصاف «نصرالدین عبدالباری» رکن پارلیمنٹ «علی بخیت» وزیراعظم «عبدالله حمدوک» ابوظبی پہنچ گیے ہیں جہاں وہ خارطوم ـ تل‌ابیب کے درمیان تعلقات پر بات چیت کریں گے۔

 

الجزیرہ کے مطابق سوڈان خفیہ ایجنسی کے سربراہ «صلاح قوش» اور مصر وزیر اطلاعات «عباس کامل» بھی ابوظبی میں بسر کررہے ہیں۔

 

سوڈان کی ایک اعلی شخصیت کے مطابق اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عمل یقینی ہے اور اگر سوڈان نے دیر کردی اور سعودی نے اسرائیل کو تسلیم کا تو اس کے بعد سوڈان کا تسلیم کرنا بے فائدہ ہوگا لہذا جلد فیصلہ کرنا ہوگا۔

 

 

اس شخصیت کا کہنا تھا کہ  اسرائیل سے تعلقات میں سوڈان امارات سے آگے ہیں کیونکہ اس حوالے سے گذشتہ فروری کو اسرائیلی وزیراعظم سے سوڈانی مقامات مل چکے ہیں۔

 

الجزیرہ کے مطابق دیگر ممالک نے پہلے اقتصادی تعلقات بحال کیے اور پھر سیاسی مگر خرطوم سیاسی معاملات سے تعلقات بحال کررہا ہے اور پھر اقتصادی شعبے میں جائیگا۔.

 

سوڈانی شخصیت کے مطابق ۳,۲ ارب ڈالر مدد ملے گی تاہم افواہ ہے کہ دس ارب ڈلر تک امداد دی جائے گی۔

 

الجزیرہ نے پیشن گوئی کی ہے کہ سوڈانی حکام خلیج فارس کے حکام اور امریکی مقامات سے سوڈان پر سے پابندی ہٹانے کے حوالے سے بھی مذاکرات اور درخواست کریں گے۔

 

البرھان خرطوم واپسی پر سفر اور مذاکرات کے حوالے سے کابینہ کو رپورٹ پیش کریں گے تاکہ حکومت کی طرف سے بیان جاری کیا جاسکے۔

 

صیھونی رژیم کے تعلقات بحالی پر سوڈان کی سیاسی پارٹیاں  «الامه» ، «الشیوعی» اور «بعث» وغیرہ شدت سے مخالفت کرتی ہیں جو حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔

 

وزیراعظم «عبدالله حمدوک» نے بھی امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کہا تھا کہ عارضی حکومت تعلقات بحالی کے اختیارات کی حامل نہیں اور سوڈان کو اس حوالے سے فہرست سے نکلا جائے۔/

3924732

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: