IQNA

13:43 - March 02, 2021
خبر کا کوڈ: 3508972
تہران(ایکنا) جمال خاشقچی کیس جس طرح ٹرمپ دور میں کوئی خاص تبدیلی نہ لاسکی جوبائیڈن کے دور میں بھی واشنگٹن ـ ریاض تعلقات میں تبدیلی نہیں لاسکتا۔

امریکی-سعودی تعلقات ہمیشہ سے ایک خاص اہمیت کا حامل رہا ہے اور اب جوبائیڈن کے دور میں خاشقچی کیس کی رپورٹ اور محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کا بھی ایک اثر دیکھا جا رہا ہے۔

 

سعودی عرب نے ہمیشہ سے کوشش کی ہے کہ علاقے میں امریکہ اور اسرائیل سے دوستی کو مضبوط رکھ سکے تاکہ امریکی اثر و رسوخ سے استفادہ کرسکے،

 

جمال خاشقجی کا ۲۰۱۸ میں قتل اور بن سلمان کی حمایت پر شدید اعترضات سامنے آئے تاکہ انکو سزا دی جاسکے۔

حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی میں سعودی قونصلیٹ کے اندر خاشقجی  کے قتل سے بن سلمان آگاہ تھے اس رپورٹ کے بعد امریکہ نے ۷۶ سعودی حکام پر پابندیاں عائد کردی تاہم ان میں بن‌سلمان کا نام شامل نہیں۔

ایکنا رپورٹ؛سعودی کے مقابل جوبائیڈن کی پالیسی اور جمال خاشقچی کیس

سال ۱۹۳۱ میں سعودی کو تسلیم کرنے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات شروع ہوئے اور عرب دنیا میں سعودی اثر و رسوخ اور انرجی کے زخائر کی وجہ سے انکو خاص اہمیت دی جاتی ہے اور اسی وجہ سے سعودی سے امریکی تعلقات کو اہمیت دی جاتی ہے اور امریکہ میں ۳۷ ہزار سعودی طلبا درس و تدریس میں مصروف ہیں۔

 

علاقے میں سعودی عرب امریکہ کا اہم ترین اقتصادی پارٹنر شمار کیا جاتا ہے اور امریکہ انرجی کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب فراہم کرتا ہے۔

ایکنا رپورٹ؛سعودی کے مقابل جوبائیڈن کی پالیسی اور جمال خاشقچی کیس

دونوں مملک کے تعلقات میں  ۱۹۳۰ کو فلسطین کی وجہ سے تناو آیا اور اسی طرح اپریل ۱۹۳۶ کو امریکہ کی جانب سے  اسرائیل کے قیام کی حمایت نے بھی سردمہری پیدا کردی۔

 

فرانکلین روزولٹ نے سعودی کو خط لکھا کہ امریکہ اسرائیل کے قیام میں مداخلت نہیں کرتا اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں دوبارہ گرمی آئی۔

مارچ ۱۹۳۸ کو CASCO کے تحت سعودی میں تیل کے زخائر دریافت ہونے کے بعد تعلقات میں مزید گہرائی آئی اور نتیجے میں چار فروری ۱۹۴۰ کو جنگ عظیم دوم کے قریب امریکہ نے سعودی کو مزید نزدیک کردیا۔

ایکنا رپورٹ؛سعودی کے مقابل جوبائیڈن کی پالیسی اور جمال خاشقچی کیس

نومبر ۱۹۶۴ فیصل نے حکومت سنبھالنے کے بعد اکتوبر ۱۹۷۳ تک تلعقات برقرار رکھا۔ مگر بعد میں عرب اسرائیل جنگ کی وجہ سے انہوں نے پالیسی تبدیل کردی۔

مارچ  ۱۹۷۴ کو اسرائیل پر امریکی دباو کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بحال ہونے لگے اور سعودی امریکی ٹیکنالوجیز سے جبکہ امریکہ سعودی تیل سے مستفید ہونے لگے۔

 

اسی کے عشرے میں سعودی کو طیاروں کی فروخت شروع ہوئی اور دونوں ممالک کمیونزم کے خلاف سرگرم ہوئے

اگرچہ نائن الیون نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثرات ڈالے لیکن دوبارہ انکی تعلقات میں گرمی آئی اور ٹرمپ کے دور میں تو خوب بڑھنے لگے اور خاشقچی کے قتل نے بھی انکو سرد نہ کیا۔

 

 

گرچہ بائیڈن نے کافی سخت الفاظوں کا انتخاب کیا مگر انتخابات کے بعد وہ بھی نرم ہوا تاہم یمن کے مسئلے پر اور جمال خاشقچی قتل کیس میں سعودی پر عرصہ دوبارہ تنگ ہونے لگا ہے۔

 حال ہی میں امریکی صدر نے سعودی بادشاہ سے فون پر بات چیت میں انسانی حقوق کے حوالے سے خبردار کیا ہے اور لگتا ہے تعلقات میں سردمہری کا دور  دوبارہ لوٹ سکتا ہے۔/

3956713

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: