IQNA

14:43 - March 07, 2021
خبر کا کوڈ: 3508996
"اے مریم مقدس! آسودہ خاطر سوجائیے؛ اب مسیح دوبارہ صلیب پر لٹکایا نہیں جائے گا، زہرا (س) کے بیٹے ہماری مدد کو آگئے ہیں"

کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا، کتھولک چرچ اور واٹیکن سٹی اسٹیٹ کے سربراہ پاپ فرانسیس گزشتہ کل سے تین روزہ دورے پر مسلمان ملک عراق میں ہیں۔ پاپ فرانسیس کا یہ دورہ عراق میں کتھولک مسیحی کمیونٹی کے روحانی پیشوا اور عراقی حکومت کی درخواست پر ہو رہا ہے۔ پاپ فرانسیس کے دفتر نے دورہ عراق کے دوران جہاں دیگر اہم شخصیات سے ملنے کا شیڈول بنایا تھا وہیں شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ سید علی سیستانی سے ملاقات کی درخواست بھی کی تھی۔ مسیحی رہنما اور شیعہ مرجع تقلید کے درمیان ملاقات کیوجہ سے یہ دورہ نہایت اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

آیت اللہ سیستانی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ خصوصاً داعش کے خلاف جنگ میں ایک تاریخ ساز فتویٰ دیا تھا انہوں نے داعش کے مقابلے میں اہل عراق کی جان مال اور ناموس کے دفاع کو ہر عراقی پر واجب قرار دیا تھا۔ شیعہ مکتب فکر میں معمولا جہاد کا فتویٰ بہت ہی شاذ و نادر دیا جاتا ہے اور وہ بھی صرف دفاعی جہاد کا؛ ابتدائی جہاد کے فتویٰ کے حوالے سے شیعہ مراجع تقلید کا اتفاق ہے کہ یہ امام معصوم ع کا صوابدیدی اختیار ہے۔ شیعہ فقہا کی طرف سے ان چند نادر فتاوی جہاد میں سے ایک آیت اللہ سیستانی کا داعش کے خلاف فتویٰ جہاد تھا۔ اس فتویٰ کے نتیجے میں عراق میں لوگ جوق در جوق رضاکارانہ طور پر فوج میں شامل ہوئے اور ریاست کی سرپرستی اور دیگر مسلمان ممالک کے تعاون سے ان رضاکاروں نے چند سال کی مسلسل مسلح جدوجہد کے بعد عراق کو داعش سے تقریباً آزاد کروا لیا ہے۔

داعش کے عراق پر حملے کے دوران داعش کی بربریت کے جو چند واقعات ذرائع ابلاغ کے توسط سے دنیا میں بہت عام ہوئے ان میں سے ایک ایزدی قبیلے سے تعلق رکھنے والی مسیحی برادری کا قتل عام ہے۔ داعش کی بربریت کی وجہ سے عراقی مسیحی برادری کی بڑی تعداد عراق سے ہجرت کرکے دیگر ممالک خصوصاً ہمسایہ خلیجی ممالک میں منتقل ہوچکی ہے۔ ویسے تو عراق سے مسیحی برادری کی ہجرت تین مختلف مراحل میں ہوئی ہے (پہلی خلیجی جنگ کے وقت، صدام کے سقوط کے وقت، داعش کے حملے کے وقت) لیکن زیادہ تر عراقی مسیحی اسی آخر الذکر موقع پر عراق سے دیگر ممالک میں منتقل ہوئے ہیں۔ اس وقت عراق میں مشکل سے 7 یا 8 لاکھ مسیحی باقی بچ گئے ہوں گے۔

خلاصہ عراق میں مسیحیت کا وجود خطرے میں ہے لہذا مسیحیت کے ایک بڑے فرقے کے سربراہ کو عراق آنے کی دعوت دی گئی تاکہ عراقی مسیحیت کو وقتی طور پر حوصلہ دیا جائے۔

پاپ فرانسیس کا دورہ عراق/ مریم مقدس آسودہ خاطر سوجائیے

اس ہدف کے تحت پاپ فرانسیس اس وقت عراق کے دورے پر ہیں۔ مسیحی پاپ وقتاً فوقتاً مختلف ممالک کے دورہ جات کرتے رہتے ہیں۔ وہ چونکہ ایک خودمختار ریاست واٹیکن کے بھی سربراہ ہیں لہذا ان کے غیر ملکی دورہ جات کو سیاسی اہمیت بھی حاصل ہوتی ہے۔

اس وقت مسیحی سربراہ کا دورہ عراق کئی عناوین سے عراقی حکومت اور دیگر دینی و سیاسی اداروں کے لیے ایک فرصت (opportunity) بھی ہے۔

اس دورے سے عراقی حکومت کے وقار اور اس امیج میں بہتری ہوگی کہ وہ دین و مذہب کی قید سے بالاتر تمام ادیان اور مذاہب کے پیروکارں کے حوالے سے سنجیدہ اور بلا تفریق تمام عراقی شہریوں کے جان مال ناموس کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہے۔

اس دورے سے خود پاپ فرانسیس کو بھی عراقی تہذیب و تمدن کو نزدیک سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا اس سے بڑھ کر عراق چونکہ شیعہ مکتب فکر کا مرکز رہا اور آجکل نجف اشرف اس مکتب فکر کا ایک بڑا مرکز ہے لہذا پاپ فرانسیس کو اسلام کے ایک بڑے بازو شیعت کو نزدیک سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملے گا اور یہ وہی نکتہ ہے جسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بین الادیان مکالمے کی طرف پیشرفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یوں تو شیعہ علمی مراکز ہمیشہ دیگر ادیان و مذاہب کے پیشواؤں سے رابطے میں رہتے اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر باہمی احترام اور دوطرفہ تعلق کے قائل رہتے ہیں۔ داعش کے خلاف جنگ کے دوران آیت اللہ سیستانی کے دفتر سے جاری ایک ہدایت نامے میں یہ تاکید دنیا کے ذرائع ابلاغ میں بہت معروف ہوئی تھی کہ جنگ کے دوران غیر مسلح دشمن کے حق میں زیادتی نہ کریں۔ دشمن کی عورتوں بچوں اور بوڑھوں کے حق میں زیادتی نہ کریں۔ حتی مسلح دشمن کے ساتھ بھی قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق برتاؤ کریں اور خصوصاً غیر مسلم برادری کی جان مال اور ناموس کو اپنی جان مال اور ناموس سمجھیں اور اس کی حفاظت کو خود پر واجب جانیں کیونکہ اس ملک میں وہ مسلمانوں کی پناہ میں ہیں۔

اور اس عیسائی عورت کا کلیسا کی دیوار پر لکھا وہ معروف جملہ تو مجھے کبھی نہیں بھولتا کہ جب شیعہ رضا کار فوج داعش کا محاصرہ توڑ کر مسیحی نشین بیجی شہر میں داخل ہوئے اور مسیحیوں کو داعش سے نجات دلوائی تو اس مسیحی عورت نے شہر کے سب بڑے کلیسا کی دیوار پر لکھا: "اے مریم مقدس! آسودہ خاطر سوجائیے؛ اب دوبارہ مسیح صلیب پر لٹکایا نہیں جائے گا، زہرا (س) کے بیٹے ہماری مدد کو آگئے ہیں"

ظاہراً ایک جذباتی جملہ ہے لیکن حقیقت ہے۔

خلاصہ، شیعہ علمی مراکز اور سیاسی طاقتیں ہمیشہ ہی غیر مسلموں کے دفاع و فلاح کے لیے نمایاں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ اس کے باوجود پاپ فرانسیس کا یہ دورہ شیعہ علمی مرکز اور شخصیات کے لیے شیعت کے انسان دوستانہ تعارف اور انسان دوستی پر مبنی پیغام کو عالم مسیحیت تک پہنچانے کا بہترین موقع ہے اور شاید یہی وہ سبب ہے جس کی بدولت آیت اللہ سیستانی جو معمولا سیاسی شخصیات سے ملاقات نہیں کرتے پاپ فرانسیس سے ملاقات کے لیے آمادہ ہوگئے تھے۔

اور آج نجف اشرف میں آیت اللہ سیستانی کے گھر پر مسیحیت کے بڑے فرقے کتھولک کے سربراہ اور شیعہ مرجعیت کے درخشاں ستارے کے درمیان یہ ملاقات انجام پا گئی ہے۔ آیت اللہ سیستانی نجف اشرف میں حرم امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے روضے کے ساتھ ایک باریک گلی میں کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں ناقابل بیان حد تک سادہ زندگی گزارتے ہیں اور یہ ملاقات اسی سادگی کے عالم میں اسی چھوٹے سے مکان میں ہوئی ہے۔ آیت اللہ سیستانی کی سادہ زیستی اور علمی مقام و مرتبے سے اکثریت آگاہ ہے۔

امید ہے ہر دو ادیان کے پیروکاروں نے اس ملاقات کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور اسے ادیان عالم کے قرب، مکالمے، مشترک زندگی کے اصول بنانے اور ایک دوسرے کی بہتر بلکہ حقیقی شناخت کے لیے مقدمہ قرار دیا ہوگا۔

ابن حسن

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: