IQNA

11:05 - May 09, 2021
خبر کا کوڈ: 3509259
تہران(ایکنا) کورونا نے دیگر لوگوں کی طرح کایجی کی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے اور وہ محدود انداز میں ٹوکیو میں آن لاین فلاحی کام کررہا ہے۔

دو سال سے کورونا نے دنیا کو متاثر کیا ہے گرچہ دنیا کے تمام مسلمان ایس او پیز کے ساتھ  روزہ داری کررہے ہیں۔

 

جاپان میں اقلیت کے باوجود مسلمان روزہ داری کے حوالے سے آذاد ہے ،. Have Halal Will Travel، نے رپورٹ میں ایک مسلمان کی روزہ داری پر رپورٹ تیار کی ہے۔

 

رمضان کی برکتوں سے مستفید ہونے کے لیے دنیا کے دیگر مسلمانوں کی طرح جاپان میں کایجی وادا (Kaiji Wada)، بھی رمضان سے استفادے کی کوشش کررہا ہے۔

 

ہر رمضان میں کایجی ۳,۳۰ صبح کو سحری کے لیے اٹھتا ہے اور سحری کے بعد تھوڑی دیر آرام کرکے کام پر روانہ ہوتا ہے اور مغرب کی نماز مسجد میں ادا کرتا ہے۔

 

اس سال کورونا کی دیگر لوگوں کی طرح کایجی کی زندگی کو بھی متاثر کیا ہے اور وہ اکثر وقت ٹوکیو کے مسلمان جوانوں کے ہمراہ آن لایں فنڈ جمع کرنے کی مہم میں لگاتا ہے۔

جاپانی مسلمان کی روزہ داری

اس سال وہ اہلیہ کے ساتھ مسجد میں تراویح ادا کرسکتے ہیں۔ گذشتہ سالوں میں مساجد میں افطاری میں وہ پاکستانی، بنگلہ دیشن اور انڈونیشین کھانوں کا مزہ اڑاتے ۔

 

انکا کہنا تھا کہ وہ سمجھ گیے ہیں کہ روزہ صرف بھوک پیاس کے علاوہ خدا پر توجہ کا بھی ہے حالانکہ اسلام قبول کرنے کے پہلے سالوں میں وہ صرف بھوک و پیاس کو روزہ جانتے تھے۔

 

انکا کہنا تھا کہ روزہ صرف کھانے سے پرہیز نہیں بلکہ قرآن کی تلاوت، نیکی کرنا اور دیگر اچھے کاموں پر توجہ بھی ہے۔

 

عید فطر سے بارے سوال پر کایجی کا کہنا تھا کہ مسلمان اس دن دیگر مسلمانوں کے ساتھ مسجد میں جاتے ہیں اور چونکہ انکے گھر میں وہ اکیلا مسلمان ہے وہ دیگر دوستوں سے ملنے جاتا ہے۔

 

کایجی کے لیے مسلمان ہونا بڑی نعمت ہے اب دنیا کے تمام مسلمان انکے دوست ہے!

 

کایجی کا کہنا تھا: مسلمان ہونے سے پہلے میں انا پرست تھا لیکن مسلمان ہونے کے بعد دیگر ممالک کے مسلمانوں نے مجھے ویلکم کیا اور میں مختلف ممالک میں اسلامی بھائیوں اور بہنوں سے بات چیت کرتا ہوں۔/

3968379

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: