IQNA

9:09 - May 31, 2021
خبر کا کوڈ: 3509440
امریکا کو 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے افواج کے انخلا کے لیے پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسا افغانستان چاہتا ہے جہاں دوبارہ جنگ شروع نہ ہوجائے۔

جی ڈی پی کے حوالے سے سامنے آنے والے حالیہ اعداد و شمار کو فی الحال ایک طرف رکھ دیں۔ اور اسی طرح آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے آئندہ برس شرح نمو کو بڑھانے کی حکومتی مشکلات پر بھی توجہ نہ دیں۔ یہاں کچھ ایسا ہونے جارہا ہے جو عوام کی نظروں سے بڑی حد تک اوجھل رہا ہے اور اگر معاملات طے پاگئے تو یہ ایک گیم چینجر ہوسکتا ہے۔

پاکستانی فوج اور نئی بائیڈن انتظامیہ کے درمیان بڑھتے ہوئے رابطوں پر غور کیجیے۔ 28 اپریل کو پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی سیکریٹری دفاع لائڈ آسٹن سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ فوج کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اس گفتگو میں ’باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سیکیورٹی صورتحال بشمول افغان امن عمل میں ہونے والی حالیہ پیش رفت، امریکی فوج کے انخلا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکی سیکریٹری دفاع نے ’دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا‘۔

تاہم امریکا کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں اتنی گرم جوشی نہیں تھی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے ’پاک امریکا تعلقات کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا‘ اور سیکریٹری دفاع کی جانب سے ’افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی مدد کو سراہا گیا‘۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس گفتگو میں ’افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بھی تبادلہ خیال ہوا‘۔

اس بیان کا اختتام اس بات پر ہوا کہ دونوں جانب سے ’خطے میں استحکام کی اہمیت اور اس خطے میں مشترکہ مقاصد کے لیے امریکا اور پاکستان نے ایک ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا‘۔ امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کا ذکر نہیں تھا۔

اس سے تقریباً ایک ماہ پہلے 21 مارچ کو انہی دونوں شخصیات کے مابین گفتگو ہوئی تھی۔ امریکی محکمہ دفاع کے بیان کے مطابق امریکا نے افغانستان میں موجود ڈھائی ہزار افواج کے انخلا کو تیز کردیا ہے اس دوران ’سیکریٹری آسٹن نے پاکستان کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات قائم رکھنے کے امریکی عزم کا بھی اعادہ کیا‘۔ بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ’سیکریٹری آسٹن نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں امریکا اور پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں‘۔

اس کے بعد گزشتہ اتوار کو خبر آئی کہ پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے جنیوا میں اپنے امریکی ہم منصب جیک سولیوان سے ملاقات کے بعد ٹوئیٹ کی کہ ’دونوں جانب سے پاک امریکا دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا‘۔

اس ملاقات کے اگلے ہی روز آرمی چیف کا امریکی سیکریٹری دفاع سے ایک بار پھر ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ اس حوالے سے امریکا نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ سیکریٹری دفاع نے ’افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی مدد کو سراہا اور پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا‘۔ یعنی دوطرفہ تعلقات کے معاملے پر بہت معمولی ہی صحیح لیکن پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔

تو ہم نے دیکھا کہ گزشتہ 3 ماہ میں پاکستانی آرمی چیف اور امریکی سیکریٹری دفاع کے مابین 3 ٹیلیفونک رابطے ہوئے اور دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ایک ملاقات ہوئی۔ ان معاملات کے ساتھ ہی کچھ نچلے درجے کے اہلکاروں کے درمیان بھی رابطے ہورہے تھے اور اس دوران آرمی چیف کا امریکی سفیر سے بھی رابطہ ہوا۔ یہ تمام رابطے ریکارڈ پر موجود ہیں۔

یہ غیر سنجیدہ رابطے نہیں ہیں۔ یہاں ضرور کوئی معاملہ چل رہا ہے۔ آخری بار آرمی چیف نے مارچ 2020ء میں امریکی سیکریٹری دفاع سے بات چیت کی تھی۔ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ موجود تھی اور لائڈ آسٹن کی جگہ مارک ایسپر تھے۔ وہ بات چیت امریکی حکومت اور افغان حکومت کے مابین مشترکہ اعلامیے پر دستخط ہونے اور طالبان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے 3 ہفتے بعد ہوئی تھی۔

پاک امریکا بڑھتے روابط: کیا کچھ بڑا ہونے جارہا ہے؟

اس بات چیت کے بعد جاری ہونے والے بیان میں صرف امریکا کے ’حکومتِ پاکستان کے ساتھ طویل مدتی اور سیکیورٹی کے حوالے سے باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کے عزم‘ کا ذکر کیا گیا۔ اس بیان میں دوطرفہ تعلقات کا کوئی ذکر نہیں تھا صرف ’مستقبل میں پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کے جاری رہنے‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔

پاکستان اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح پر بڑھتے ہوئے رابطے اس بات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ کسی اہم معاملے پر بات چیت جاری ہے۔ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کے بعد ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت کے حوالے سے جاری شدہ امریکی بیان میں دوطرفہ تعلقات کا ذکر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی کوششیں کچھ رنگ ضرور لا رہی ہیں۔

اس وقت ہم حتمی طور پر یہی کہہ سکتے ہیں کہ امریکا کو 11 ستمبر کی ڈیڈ لائن تک افغانستان سے افواج کے انخلا کے لیے پاکستان کا تعاون درکار ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسا افغانستان چاہتا ہے جہاں دوبارہ جنگ شروع نہ ہوجائے۔ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کی مدد کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے اس بات چیت میں آرمی چیف بذات خود شامل ہیں۔ پاکستان امریکا کے ساتھ ’دوطرفہ تعلقات کو فروغ‘ دینا چاہتا ہے جس میں سیکیورٹی کے حوالے سے تعاون (یہ اسلحے کی ڈیل کے لیے سفارتی اصطلاح ہے) اور ’دیگر شعبوں‘ یعنی معاشی امداد میں تعاون شامل ہے۔ اور یوں پاکستانی حکومت کی جانب سے ’جیو اکنامکس‘ کی طرف پیش قدمی کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔

اس بات چیت کے اثرات دُور رس ہوسکتے ہیں (اگر بات وہاں تک پہنچتی ہے تو)۔ پاکستان میں ہونے والا ہائبرڈ تجربہ تو کام نہیں کر رہا۔ سب ہی یہ بات جانتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے بل بوتے پر موجودہ مشکلات سے نہیں نکل سکتی۔ یہ ان مشکلات میں جتنی دیر تک گھری رہے گی، مستقبل بھی اتنا تاریک ہوتا جائے گا۔ اس ہائبرڈ تجربے کے جاری رہنے کے لیے ضروری ہے کہ کچھ سالوں تک تیز رفتار ترقی ہو جیسا کہ مشرف دور میں یا پھر بعد میں نواز شریف کے دور میں ہوئی تھی۔ 4 فیصد کی شرح نمو حکومت کو اس مقام تک نہیں لے جائے گی۔

 

پاکستان میں جب بھی تیز رفتار ترقی ہوئی تو اس کے اجزا یکساں ہی ہوتے تھے یعنی روپے کا اوور ویلیو ہونا، شرح سود کا کم ہونا، حکومتی اخراجات میں اضافہ اور صنعتوں کے لیے ٹیکس ریلیف۔ کچھ مالی امداد، آئی ایم ایف کی شرائط میں نرمی اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا ان تمام چیزوں کو یقینی بنا سکتا ہے۔

 

2002ء میں جنرل مشرف کے امدادی پیکج کو یاد کریں جس کے بعد 2004ء تک معیشت کی شرح نمو 9 فیصد ہوچکی تھی۔ اگر خاطر خواہ امداد مل جائے تو حالات اتنی ہی جلدی تبدیل ہوسکتے ہیں۔ امریکا اس وقت تمام توجہ افغانستان پر مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ پاکستان کا تمام تر زور ’دوطرفہ تعلقات پر ہے‘۔ دونوں ممالک کے پاس اپنے اپنے مؤقف کی ٹھوس وجوہات موجود ہیں۔

1160797

 

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: