IQNA

9:17 - August 01, 2021
خبر کا کوڈ: 3509914
تہران(ایکنا) روھنگیا جو کیمپ کی آتش زدگی کے مسائل سے دوچار تھے اب سیلاب کے بحران سے نبرد آزما ہیں۔

روھنگیا پر مظالم کا سلسلہ شاید تھمنے والا نہیں اور لگتا ہے کہ آفات کا سایہ بھی ان پر پڑ چکا ہے، کیمپوں میں آتش زدگی ختم ہوئی نہ تھی کہ اب ایک اور بلا کا ان پر سایہ آچکا ہے۔

رویٹرز کے مطابق شدید بارشون کے بعد کمیپوں میں سیلابی ریلا آنے سے ہزاروں روھنگیا پناہ گزین گم ہوچکے ہیں۔

 

اقوام متحدہ کے ایک عہدہ دار نے انتباہ کیا ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا، مقامی زرایع کے مطابق سیلاب اور تودہ گرنے سے چھ روھنگیا جان بحق ہوچکے ہیں جنمیں تین بچے شامل ہیں جبکہ بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں بھی پندرہ افراد جان بحق ہوچکے ہیں اور دو لاکھ افراد سکونت سے محروم ہوچکے ہیں۔

 

پناہ گزینوں کے امور کی انجمن کا کہنا ہے کہ اکیس ہزار افراد کو سیلاب نے متاثر کیا ہے اور چار ہزار عارضی گھر منہدم ہوچکے ہیں۔

 

بیان میں کہا گیا ہے کہ تیرہ ہزار افراد کیمپ بدلنے پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ ہزاروں دیگر افراد بنیادی سہولیات جیسے میڈیکل اور واش وغیرہ سے محروم ہوچکے ہیں۔

 

الجزیره کے مطابق بہت سے افراد جو مارچ میں آتش زدگی سے متاثر ہوئے تھے اب سیلاب کی وجہ سے مشکلات سے روبرو ہیں۔

 

مشرقی بنگلہ دیش میں عام طور پر جون سے ستمبر کے درمیان بارشوں سے کافی ہلاکتیں معمول بن چکی ہیں۔

چاٹوگرام میں ۱۴۹ افراد جون ۲۰۱۷ کی بارشون میں ہلاک ہوئے تھے۔

 

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد دس لاکھ لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے اور اب کاکس بازار میں دنیا کا بہت بڑا مہاجر کیمپ لگ چکا ہے۔/

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

 

مصیبت سیل برای پناهندگان روهینگیا+ فیلم و عکس

3987554

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: