IQNA

16:56 - September 17, 2021
خبر کا کوڈ: 3510243
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ طالبان کو افغانستان میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور عالمی برادری کو جنگ زدہ ملک کی عوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں 20 ویں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ (ایس سی او-سی ایچ ایس) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

افغانستان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران نے کہا کہ طالبان کے قبضے اور غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد افغانستان میں ایک 'نئی حقیقت' سامنے آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ سب کچھ خونریزی، خانہ جنگی اور پناہ گزینوں کے بڑے پیمانے پر ہجرت کے بغیر ہوا'۔

انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی برادری کے اجتماعی مفاد میں ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ افغانستان میں دوبارہ کوئی تنازع نہ ہو اور سیکیورٹی کی صورتحال مستحکم ہو۔

وزیر اعظم نے کہا کہ انسانی بحران کو روکنا اور معاشی بحران 'یکساں طور پر فوری ترجیحات' ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ سابقہ حکومت غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار کرتی تھی اور اسے ختم کرنا معاشی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کو انسانی امداد کے لیے مدد کو متحرک کرنے پر سراہا اور کہا کہ پاکستان بھی انخلا کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کی مثبت مصروفیت انتہائی اہم ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'افغانستان میں 40 سال سے جاری جنگ کو بالآخر ختم کرنے کا ایک نادر موقع ہے، اس لمحے کو ضائع نہیں کرنا چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ اس نازک موڑ پر منفی باتیں پھیلانا یا پروپیگنڈے میں ملوث ہونا دانشمندی نہیں ہوگی، 'یہ صرف امن کے امکانات کو کمزور کرنے کا کام کرے گا'۔

ایس سی او اجلاس کے مقام نوروز پیلس آمد پر تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن نے وزیراعظم کا پرتپاک استقبال کیا تھا۔

'دہشت گردی سے لاحق خطرات اب بھی موجود ہیں'

وزیر اعظم نے کہا کہ جیسا کہ دنیا نے امریکا میں 11 ستمبر کے حملوں کی 20 ویں برسی منائی وہیں یہ یاد دلایا گیا کہ عالمی برادری کی بہترین کوششوں کے باوجود دہشت گردی کے خطرات اب بھی برقرار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ایک مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے سے دنیا بھر میں دائیں بازو، پاپولسٹ اور بالادست گروہوں کو پروپیگنڈا کرنے اکٹھا ہونے اور اثر و رسوخ پیدا کرنے کے قابل بنایا ہے۔

کچھ معاملات میں اس طرح کے انتہا پسند اور متعصب نظریات نام نہاد جمہوریتوں میں ریاستی اقتدار پر قبضہ کرلیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر ہم ان خطرات اور چیلنجز کو نظرانداز کرتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جاسکے گی'۔

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی وجہ سے نقصان اٹھا رہا ہے جو 'ہماری سرحد پار سے ریاستی اداروں کی طرف سے منصوبہ بندی، معاونت، مالی اعانت اور انجام دیا گیا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'تنازع زدہ علاقوں سے باہر کسی بھی دوسرے ملک نے پاکستان سے زیادہ نقصان نہیں اٹھایا ہے، ہم نے 80 ہزار سے زائد ہلاکتیں اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان اٹھایا ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود ہمارا عزم مضبوط ہے، ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں عالمی برادری کے قابل اعتماد اور رضاکار شراکت دار رہیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی امن کے لیے خطرات سے نمٹنا ایس سی او کے لیے اہم دلچسپی کا موضوع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ بقیہ تنازع کے پرامن حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی قراردادوں پر عمل درآمد امن کے لیے ضروری شرط ہے اور تعاون کا ماحول بنانے کے لیے ناگزیر ہے'۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متنازع علاقوں کی حیثیت کو تبدیل کرنے کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات اس مقصد کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کی مذمت اور سختی سے مخالفت کی جانی چاہیے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: