IQNA

8:33 - October 18, 2021
خبر کا کوڈ: 3510453
تہران(ایکنا) آسٹریلین خاتون AHIIDA نے سال ۲۰۰۴ میں بورکینی تیار کیا جو مسلم خواتین میں سوئمنگ ڈریس کے حوالے سے کافی مقبول رہا۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسپورٹس سلامتی اور کھیل کے میدان میں نام پیدا کرنے کے حوال سے دنیا بھر میں ایک اہم ترین موضوع اور زندگی کا شعبہ رہا ہے۔

 

آج کے دور میں لائف اسٹائل کی وجہ سے ہلنے جلنے میں کمی کی وجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں جو سب حرکت کی کمی کی وجہ سے ہے۔

 

اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے ورزش کی اہمیت میں اور اضافہ ہوا ہے، غذا، صحت، تجارت اور ڈریسز وہ شعبے ہیں جس سے اسپورٹس کے ساتھ اقتصادی حوالے سے انکو خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔

 

آسٹریلین محجبہ خاتون خواتین اسلامی ڈریس کی ڈیزائنر

مختلف قسم کے برانڈ نے کوشش کی ہے کہ اس بازار میں اچھی سرمایہ کاری کی جائے اور مختلف طرز کے ڈریسز تیار کیے جاتے ہیں اور اس میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی کیا جاتا ہے اور اس میدان میں مسلمان خواتین کا بھی اہم حصہ ہے۔

 

مسلمان خواتین اسپورٹس کے حوالے سے اسلامی حجاب کے حکم کی وجہ سے بظاہر بعض رکاوٹوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں تاہم اس سے وہ اسپورٹس سے الگ نہ رہیں بلکہ کوشش کی گیی کہ انکے ڈریسز کو مناسب انداز میں تیار کیا جائے۔

آسٹریلین محجبہ خاتون خواتین اسلامی ڈریس کی ڈیزائنر

اس موضوع کو دیکھتے ہوئے NIKE  اور Adidas   کمپنیوں نے کوشش کی ہے کہ مسلم خواتین کے لیے مخصوص ڈریسز تیار کریں تاہم دوسری کمپنیاں بھی اس حوالے سے پیچھے نہ رہی۔

 

اسی حوالے سے  AHIIDA  کمپنی نے سال ۲۰۰۳ سے ڈریسز کا آغاز کیا اور آسٹریلین ڈیزائنر عاهده زانتی(Aheda Zanetti)  نے خواتین کے لیے مخصوص ڈریس تیار کیا جسمیں حجاب کی ترکیب کے ساتھ خواتین آزادی سے کھیل سکتی ہیں۔

 

آسٹریلین محجبہ خاتون خواتین اسلامی ڈریس کی ڈیزائنر

 

زانتی  سال ۱۹۶۷ کو لبنان شہر طرابلس میں پیدا ہوئی اور وہاں سے والدین کے ساتھ آسٹریلیا ہجرت کی۔ زانتی نے سب سے پہلے ایک حجاب ٹوپی تیار کی تاکہ مسلم خواتین اس کے ساتھ کھیل سکے۔

زانتی کا کہنا تھا: اس لباس کا آئیڈیا اسکول کے زمانے سے دماغ میں آیا اور اس وجہ سے کہ میں سوچتی تھی کہ کس طرح سے مناسب لباس کے ساتھ اسپورٹس بھی ہوسکتا ہے چونکہ میں نے مناسب لباس نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے اسپورٹس کو چھوڑ دیا تھا۔

 

آسٹریلین محجبہ خاتون خواتین اسلامی ڈریس کی ڈیزائنر

  سال ۲۰۰۴،میں  زانتی نے مسلم خواتین کےلیے Ahiida  کے نام سے ڈریس تیار کیا اور بعد میں(Ahiida Pty Ltd (AHIIDA  کا قیام عمل میں لایا. زانتی نے اسی نام سے مسلم خواتین کے لیے سوینمگ ڈریس بورکینی پیش کیا جس کو کافی مقبولیت ملی۔

 

اس ڈریس سے نہ صرف مسلمان خواتین نے حجاب کے حوالے سے استعمال کیا بلکہ بہت س غیرمسلم خواتین نے جلد کو گرمی سے بچانے کے لیے بھی انتخاب کیا اور بعد میں بورکینی کے طرز پر بہت سے ڈریسز تیار ہوئے۔

 

زانتی  نے سال ۲۰۰۸ میں  ۷۰۰ هزار ڈریسز فروخت کیا.  Ahiida  کے ڈریسز آن لاین فروخت کیے جات ہیں۔/

4000401

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: