IQNA

7:40 - December 04, 2021
خبر کا کوڈ: 3510784
تہران(ایکنا) صھیونی رژیم ڈیڑھ سال سے جاری واپسی مارچ میں سینکڑوں فلسطینیوں کو قتل کرچکا ہے مگر کسی ایک فوجی کو سزا نہیں ہوئی ہے۔

اناطولیہ نیوز کے مطابق  فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم «بتسيلم» نے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی اور وطن واپسی مارچ جو مارچ ۲۰۱۸ سے شروع ہوئی ہے اس بارے میں رپورٹ شایع کی ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مظاہروں میں ۲۲۳ فلسطینیوں کو شہید کیا ہے جنمیں سے ۴۶ افراد اٹھارہ سال سے کم عمر تھے جبکہ سینکڑوں دیگر فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق بہت سے فلسطینیوں کو سرحدی علاقے سے کافی دور ہونے کے باوجود نشانہ بنایا گیا ہے جب کہ مظاہروں میں ۱۳ هزار فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں اور اسی طرح  ۱۵۶ فلسطینی اپنے اعضاء سے محروم ہوچکے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں صرف ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا ہے جب کہ کچھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسیطنیوں کے زخمی ہونے کی کوئی تحقیق نہیں ہوتی۔

 

گذشتہ اپریل تک اسرائیلی فوج نے  ۲۳۴ فسلطینیوں کے قتل کیس کا جایزہ لیا ہے اور  ۱۴۳ کیسز کو عدالت کے سپرد کیا ہے جنمیں سے ۹۵ کیسز کے فائل بند ہوچکے ہیں۔

 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے قتل و غارت کے کیسز سے  اسرائیل اعلی فوجی حکام کی سفارش پر ان کیسز کو اہمیت نہیں دیتے اور انکے کہنے پر سب کچھ انجام پاتا ہے۔

 

عبری‌زبان میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام ان دعووں کو رد کرتا ہے۔

 

اسرائیلی فوج کا دعوی ہے کہ ان کیسز کی سماعت پر کام ہورہا ہے۔/

4018019

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: