IQNA

8:34 - May 14, 2022
خبر کا کوڈ: 3511847
انسان خطاوں کی ذد میں ہے اور انکے لیے عظیم انسانوں کو نمونہ قرار دیا گیا ہے جو غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں تاہم یہی پاک لوگ استغفار کیوں کرتے ہیں؟

ایکنا نیوز- روایات میں کہا جاتا ہے کہ رسول گرامی روزانہ 70 بار استغفار کرتے تھے . دعائے اولیاء الله مثلا دعائے افتتاح، دعائے ابوحمزه ثمالی، دعائے کمیل و میں پشیمانی، توبہ اور استغفار سے لبریز ہیں تاہم  اولیا و ائمه کی توبہ و گریہ کی وجہ کیا ہے؟

ہم عام طور پر معصومین کو پاک تصور کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ اگر وہ گناہ ہی نہیں کرتے تو انکو توبہ و استغفار کی ضرورت نہیں اہم دعائیں اور مناجات جیسے ابوحمزه ثمالی کی دعا ہمارے لیے نمونہ عمل ہیں ورنہ وہ تو ایسے نہ تھے جس میں کہا جاتا ہے «لَعَلَّكَ رَاَيتَني آلِفَ مَجالِسِ الْبَطّالينَ: میں بہودہ افراد کی مجلس میں بیٹھا» یا یہ کہ رسول گرامی(ص) رو کر خدا سے کہے «اللهم لا تکلنی إلی نفسی طرفة عین أبدا: میرے رب ایک لحظہ کے لیے مجھے میرے حال پر مت چھوڑ».

سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بزرگ لوگ ایسے کیوں کرتے؟ جواب یہ ہے کہ جو جتنا خدا کو خدا کے نزدیک تر سمجھے اتنا ہی وہ زیادہ راز و نیاز کرتے ہیں. ہم نہیں جانتے ہیں کہ ہم خدا کے کسقدر محتاج ہیں . یہ جو رسول گرامی(ص) فرماتے ہیں «الفقر فخری» خدا سے ضرورت وجودی اور فقر وجودی کی طرف اشارہ ہے۔

اسی وجہ سے قرآن مجید خدا کے خاص بندوں کو«اَوَّاب» کے نام سے یاد کرتا ہے یعنی وہ لوگ جو بہت توبہ کرتے ہیں اور ہمیشہ خدا سے رابطے میں رہتے ہیں. لفظ «اواب» چار بار قرآن میں آیا ہے۔/

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: