شھدائے کربلا کے سات گروہ

IQNA

شھدائے کربلا کے سات گروہ

8:31 - August 03, 2022
خبر کا کوڈ: 3512433
کربلا میں ایسے لوگ بھی شہید ہوئے جو رسول خدا کے صحابی تھے اور انہوں نے امام حسین کو رسول خدا کے ساتھ دیکھا تھا اور انکے بارے میں روایتوں کے گواہ تھے۔

ایکنا نیوز-حضرت اباعبدالله الحسین(ع) کی تحریک میں سات گروہ قابل ذکر ہیں، پہلا گروہ وہ شہدا جو کربلا پہنچنے سے قبل شہید ہویے جنمیں سلیمان بن رزین سرفہرست ہے جو بصرہ میں شہید کیے گیے، وہ امام کا قاصد تھا اور معلوم ہونے پر عبیداللہ ابن زیاد نے اس سے گرفتار کرکے شہید کیا اور کوفہ کا رخ کیا۔

مسلم بن عقیل، قیس بن مسهر اور عبدالله بن یقطر بھی ان افراد میں شامل ہیں جو تحریک امام میں حضرت امام حسین(ع) کے کربلا پہنچنے سے پہلے ہی شہید کردیے گیے، ان سے پہلے کوفه میں میثم تمار کو شہید کردیا گیا۔

 

دوسرے گروہ میں حضرت اباعبدالله کے وہ اصحاب ہیں جو صبح عاشور تیرکی بارش میں شہید ہوئے، صبح عاشور عمرسعد نے تیراندازی کا آغاز کیا اور اس کے نتیجے میں امام کی فوج کے 52 افراد شہید ہوئے۔

کربلا میں بعض شہید ہونے والے اصحاب رسول خدا(ص) تھے جو جنگوں میں رسول گرامی کے ساتھ تھے اور انہوں نے  امام حسین(ع) کو بچپن میں رسول گرامی کے ساتھ دیکھا تھا اور امام حسین(ع) کے فضائل ان سے سنے تھے۔ حبیب بن مظاهر اور مسلم بن عوسجه ان افراد میں شامل ہیں۔

تیسرا گروہ وہ ہے جو تن بدن جنگ میں شہید ہوئے اور بعض اوقات کئی افراد اکٹھے لڑے مثلا بصرہ سے کچھ لوگ آئے تھے وہ یکجا میدان میں گیے اور کبھی محاصرے میں آتے تو علمدار کربلا ابوالفضل عباس انکی مدد کو جاتے اور محاصرہ توڑ کو واپس آتے، زخمی ہوتے تو واپس آتے اور دوبارہ جا کر لڑتے یہانتک کہ شہید ہوئے، ان میں سے عبدالله بن عمیر کلبی اکیلے گئے اور درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔

دوبدو لڑائی میں آخری شہید حبیب ابن مظاہر ہے جو فوج حسینی کے بائیں جانب کے سپاہ سالار تھے۔

چوتھے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جو نماز ظھر کے وقت شہید ہوئے، جب امام نے علمدار کو بھیجا کہ وہ نماز کے لیے جنگ میں وقفہ مانگے، نواسہ رسول نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز خوف ادا کی جو میدان میں پڑی جاتی ہے اس دوران دو شہید ہوئے، یہ شہدائے نماز تھے۔

نماز کے بعد پانچواں گروہ وہ ہے جن کی تعداد گیارہ بتائی جاتی ہے، یہ لوگ اکیلے اکیلے میدان میں گیے اور شہادت پر فایز ہویے، ان میں نمایاں زھیربن قین ہے جو بڑی معروف شخصیت تھے اور دائیں سمت کے سالار تھے۔

اصحاب کی شہادت کے بعد  بنی‌هاشم یعنی حضرت اباعبدالله الحسین کے خاندان کی نوبت آئی، فرزندان عقیل، فرزندان

امام حسن مجتبی(ع)، فرزندان امیرالمؤمنین(ع) یعنی برادران امام حسین(ع) جنمیں ابوالفضل العباس، جعفر، عثمان اور عبدالله شامل ہیں، انکے بعد امام حسین(ع) درجہ شہادت پر فایز ہوتے ہیں اور بعض دیگر امام حسین(ع) کے بعد بھی شہید ہوئے۔

آخری بندہ جو کربلا میں شہید ہویے وہ بصرہ سے نکلے تھے اور دیر سے کربلا پہنچے، وہ آئے تو دیکھا کہ لشکر یزید میں جشن کا سماں ہے اور شور و غل کی آوازیں آرہی ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ امام حسین بھی شہید ہوچکے ہیں تو تلوار نکال کر جنگ شروع کرتا ہے اور جام شہادت نوش کرتے ہیں انکا نام ھفھاف بن مھند راسبی بصری بتایا جاتا ہے جو میدان کربلا کا آخری شہید کہلاتا ہے۔

* ایکنا سے ایرانی محقق محمدرضا سنگری کی گفتگو سے اقتباس

نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha