
ایکنا نیوز- المسیرة نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن نے باب المندب کی آبنائے کو اسرائیلی جہازوں کے لیے بند کر دیا ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں جہاد و مقاومت کے محور کے خلاف امریکی و صہیونی جارحیت کا مقابلہ کرنے، ’’نئے مشرقِ وسطیٰ‘‘ کے نام پر ’’اسرائیلِ عظیم‘‘ کے صہیونی منصوبے کی مخالفت کرنے، اور اپنے عوام نیز لبنان، غزہ اور ایران کے آزاد اور باعزت عوام کے خلاف امریکی دشمن کی ظالمانہ ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے یمنی مسلح افواج نے میدانوں کے اتحاد اور دشمن کے خلاف مشترکہ مزاحمت کے فریم ورک میں اسرائیلی رژیم کی لبنان، ایران اور غزہ پر جارحیت کے جواب میں کئی میزائلوں کے ذریعے تل ابیب میں دشمن کے حساس اہداف کو نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ انتہائی دقت کے ساتھ انجام دیا گیا اور اس نے اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کر لیے۔
اس سے قبل اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ یمن سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جانب ایک میزائل فائر کیا گیا ہے۔

انصار اللہ یمن نے اپنے ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا کہ اسرائیلی جہاز بحیرۂ احمر سے گزر نہیں سکتے۔
باب المندب کی یہ آبی گزرگاہ تزویراتی لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے اور اس کی اہمیت آبنائے ہرمز سے کم نہیں سمجھی جاتی۔ روزانہ تقریباً 39 لاکھ بیرل تیل، جو عالمی سمندری تجارت کا تقریباً 12 فیصد بنتا ہے، اس 29 کلومیٹر چوڑی گزرگاہ سے منتقل ہوتا ہے۔/
4356916